خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 340

خطبات طاہر جلد 14 340 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء اور نہیں جو غیب کا علم رکھتا ہو۔اس کے سوا کوئی اور نہیں جو غیب میں کچھ عطا فرما سکتا ہو، کچھ پیدا کرسکتا ہو ہر پہلو سے غیب کا مضمون آپ کو لا متناہی جہانوں میں لے چلتا ہے جس پر غور کریں تو عجیب و غریب، نئے سے نئے مطالب آپ کے سامنے پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔مختصراً اتنا سر دست میں یہ بات کہہ کر رحیمیت سے اب اس کا تعلق جوڑتا ہوں۔رحیمیت کا مطلب ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بہت ہی لطیف معنے اور بار بار کئے ہیں اتنے کہ ذہن میں خوب پیوست ہو جائیں وہ یہ ہیں کہ وہ جو اعمال کی جزاء مترتب کرنے والا ہے۔آپ نے رحمن خدا سے جو کچھ پایا اس کا حساب دینا ہوگا اور اگر اس کو استعمال کر کے آپ رحمان خدا کے قریب ہوتے ہیں تو ہر اس قدم کی جو خدا رحمان کی سمت میں اٹھتا ہے اس کی جزا رحیمیت دیتی ہے۔اب ایک نئی عطا ہے یہ۔رحمانیت سے فائدہ اٹھانا زیادہ سے زیادہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ آپ کو شکر گزاروں میں لکھ لے کہ ہاں تم نے شکر گزاری کا حق ادا کیا، پتا کر لیا کہ ہاں کوئی تھا دینے والا جو تمہارے مانگے بغیر تمہیں وہ کچھ عطا کر گیا ہے کہ تمہاری ساری نسلیں بھی اس کو استعمال کرتی رہیں اور آئندہ ظاہر ہونے والی چیزوں سے فائدہ اٹھاتی رہیں تب بھی وہ رحمانیت نے جو خزانے بھر دیئے ہیں ان کو ختم نہیں کر سکتیں ، یہی نتیجہ نکلتا ہے۔جزا کہاں سے آ گئی اس میں۔اس میں تو کوئی جزا والی بات نہیں ہے۔آپ کسی کو کوئی کھانا تحفہ دیں مرغ روسٹ دیں تو کہیں ہاں میں نے پہچان لیا ہے مرغا ہے یہ۔تو آپ کہیں جزاک اللہ تم نے کمال کر دی ہے خوب پہچانا ، یہ تو نہیں ہوسکتا۔مگر جو رحمان سے تعلق جوڑتا ہے بعض دفعہ ایک سادہ آدمی کی اس بات پر بھی خوش ہو کے اس کو جزا دیتا ہے کہ اچھا تم نے کمال کر دیا واقعہ میں تمہیں ایک اور بھی چیز دیتا ہوں انسانوں میں تو شاذ کے طور پر یہ صفت دکھائی دے گی مگر رحیمیت ہر بار ہم سے یہی سلوک کرتی ہے۔آپ رحمانیت کو پہچانیں اور اس کے حقوق ادا کرنے کی اس طرح کوشش کریں کہ جو کچھ خدا نے بن مانگے آپ کو دیا ہے اس سے لذت یاب ہوتے وقت اس کو یاد کر لیا کریں تو ہر قدم پر رحیمیت جزا لے کر آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اگر آپ نہیں پہچانیں گے تو سزا آپ کے اس فعل سے از خود ظاہر ہوگی کیونکہ اپنی بھلائی کو جو نہ جانتا ہو وہ اس سے محروم رہ جاتا ہے۔بے انتہاء خزائن ہیں جو پردہ غیب میں ہیں، جو رحمانیت کے تعلق میں ہمارے لئے اس صورت میں موجود ہیں کہ ہم اگر ہاتھ بڑھا ئیں اور اللہ توفیق دے تو وہاں تک