خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد 14 342 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء رہے ہیں اور بھاپ اٹھ رہی ہے، کسی کو کیا پتا تھا کہ رحمان خدا وہ ہے جس نے ہر چیز کے اندراس کے غیب میں خزانے رکھے ہوئے ہیں اور یہ غیب پر ایمان ہو تو ان خزانوں کی تلاش زیادہ باشعور طور پر ہوگی لیکن اگر تلاش نہ بھی ہو، غیب پر ایمان نہ بھی ہو، تو وہ آنکھیں جو دیکھتی ہیں اور سچائی کے ساتھ جو دیکھتی ہیں اس کی پیروی کرتی ہیں، رحیمیت ان کو محروم نہیں رکھتی۔پس اس بچے کو خیال آیا کہ چلو اس کو بند کرتے ہیں یہ بھاپ جو اٹھ رہی ہے تو اس کا ڈھکنا زور سے بند کریں اس نے وہ کپڑاو پڑارکھ کے کچھ ، تا کہ ہاتھ نہ جلے دبایا لیکن وہ زور سے پھر باہر نکل گئی۔پھر اس نے کہا اچھا اتنی طاقتور ہے میں اس کے اوپر بیٹھتا ہوں تو کپڑا وغیرہ رکھ کر اوپر بیٹھا تو کچھ دیر کے بعد اس کو اچھال اچھال کر بھاپ پھر بھی نکلنے لگ گئی۔اس نے اوپر پتھر رکھ دیئے ، جو کچھ اس کا بس چلا اس نے کر دیکھا مگر وہ بھاپ نکلنا بند نہ ہوئی اس پر اس کو انجن کا خیال آیا اور پھر سائنس دانوں نے اس علم سے کہ بھاپ میں تو بہت طاقتیں پوشیدہ تھیں اس کا استعمال کرنا شروع کیا اور ریلوے انجن اس سے ایجاد ہوا۔اب آپ دیکھیں ایک لمبے عرصے تک اسی بنا پر کہ خدا کی رحمانیت کو پہچانا اور اس کے عقلی تقاضے پورے کئے رحیمیت نے ساتھ دیا اور نہیں چھوڑ رہی۔ہر انجن جو روزانہ روانہ ہوتا ہے کہیں سے،اس کا ہر لمحہ جو چھک چھک چھک چھک بھاپ کی آواز آرہی ہوتی ہے رحیمیت کے گیت گا رہا ہوتا ہے اور رحیمیت میں یہ دانگی ساتھ کے معنے پائے جاتے ہیں، وفا کے معنے پائے جاتے ہیں، ایک چیز ایسی آئے جو ساتھ لگ جائے اور پھر چھوڑے نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بہت ہی پیارے انداز میں مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی ہے اور خلاصہ یہی کہ رحیمیت دراصل وہ عالم شہادہ میں رحمانیت کی جلوہ گری کا ایک انداز ہے۔ہے رحمانیت ہی ہمگر وہ جو آپ کی کچھ کوشش ، آپ کی نیت ، آپ کے کچھ عمل سے تعلق باندھ دیتی ہے اور یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ضرور جزا دینی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے گرمی کو آگ کو دیکھا اس کی طاقت کو بھی محسوس کیا۔بھاپ کو دیکھا، اس کی طاقت کو کسی حد تک محسوس کیا لیکن غلط استعمال کی باتیں سوچیں انہوں نے گھر پھونکے، بچوں کو ابلتے ہوئے پانیوں سے جلا دیا ، انبیاء کو آگ میں ڈالنے کی کوشش کی اور یہاں انہوں نے رحیمیت سے یا رحمانیت سے اس طرح ٹکر لی کہ اس کی غلط طرف آگئے اور وہی آگ ہے جو پھر ان کو بھسم کر گئی۔وہی ابلتے ہوئے پانی تھے جو ان کی چھاتیوں میں چھالے ڈال گئے اور اس طرح رحیمیت