خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد 14 335 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء ہے۔اب ان دو چیزوں میں بھی فرق ہے اللہ تعالیٰ کا نام غیب نہیں ہے۔اللہ کا نام حاضر بھی نہیں ہے یا ہو تو میرے علم میں نہیں۔حاضر ہونا تو ممکن ہے مگر غیب خدا کا نام نہیں ہے۔اللہ کا نام ظاہر ہے اور باطن ہے وہ ظاہر بھی ہوتا ہے اور باطن میں بھی ہے اور باطن کا مطلب ہے غیب کے پردوں میں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں غیب کی تعریف بیان فرمائی وہاں اللہ کو غیب قرار نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ علم الغیب کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ناموں کو ، اپنی صفات کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کیونکہ ہر غیب کا وہ واقف ہے اور اس کی صفات کا ایک بہت ہی عظیم حصہ جس کو ظاہر کے مقابل پر کوئی ایسی نسبت ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے ، وہ غیب ہے خدا جس کا علم رکھتا ہے اور تمہیں اس پر ایمان لانے کی ہدایت کرتا ہے۔یہ ایمان کیوں ضروری ہے غیب پر ایمان لانا، اس کے متعلق قرآن کریم کی وہ آیات جن کا میں نے ذکر کیا ہے کہ انچاس آیات ہیں وہ لفظ غیب کے مضمون پر روشنی ڈالتی رہی ہیں مختلف پہلوؤں سے۔ان میں سے بعض ایسی آیات ہیں جن کا انسانوں سے بھی تعلق ہے اس لئے ان کو نکال بھی دیں تو اکثر وہ صفات ہیں جو خدا تعالیٰ کے علم غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ ضروری اس لئے ہے کہ فائدے بھی غیب میں مضمر ہیں اور خطرات بھی غیب میں مضمر ہیں۔ایک آئس برگ جو سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، برف کا تو دا بعض دفعہ ایک چھوٹا پہاڑ ہے جو ڈوبا ہوا ہے اس کا صرف 1/10 حصہ سمندر کی سطح سے باہر دکھائی دیتا ہے باقی نیچے ہے۔جن کو پتا نہ ہو وہ اس کو ایک معمولی چیز سمجھتے ہیں۔بعض دفعہ چھوٹا سا ٹکڑا باہر دکھائی دیتا ہے چھوٹی پہاڑی یا ٹیلہ سمجھ لیں ڈوبا ہوا ہے اور ایک پورا 9/10 حصہ اندر ہوتا ہے جو جہازوں کے پر خچے اڑادیتا ہے۔جب ٹکر لگے تو بڑے بڑے جہاز اس سے غرق ہو جاتے ہیں۔بعض ایسے جہاز جن کے متعلق قوموں نے دعوے کئے تھے، خود انگلستان نے ایک ایسا جہاز بنایا تھا جس پہ دعویٰ تھا کہ آج تک اس سے زیادہ کامل جہاز کبھی نہیں بنایا گیا، پہلے سفر میں ہی آئس برگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا کچھ بھی اس کا باقی نہ رہا۔تو وہ ذات جو چھپی ہوئی ہو، اس کے منفی پہلو ، اس کی ایسی طرف ظاہر ہونا جو اس سے ٹکرا دے تمہیں ، جو اس کے ساتھ تصادم پیدا کر دے، نہایت ہولناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔یہ لاعلمی نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے اور فوائد چھپے ہوئے ہوں اور آپ کو علم نہ ہو تو آپ ان سے استفادہ کرسکیں گے۔تو ہمارے لئے منفی پہلو سے بھی اور مثبت سے بھی علم الغیب پر غور ضروری ہے اور اس پہ جوں جوں آپ غور