خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد 14 334 خطبہ جمعہ 12 رمئی 1995ء پیغام یہی ہے کہ هُوَ اللهُ الَّذِی لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اللہ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی ایسا لائق نہیں کہ اس کا کھوج لگایا جائے اس کے پیچھے چلا جائے اس کی اطاعت کی جائے اور وہ یہ ہے علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ پہلی بات ہی علِمُ الْغَيْبِ سے شروع کی گئی اور غیب کے چکر میں ڈال کر ایک ایسا سفر شروع کرا دیا جس کی غیب کے تعلق ہی میں کوئی انتہا نہیں اور ایک ایسا نیا مضمون عطا فرمایا جو پہلے کبھی کسی مذہب کو عطا نہیں کیا گیا۔جہاں تک میری تحقیق کا تعلق ہے مجھے ایک عرصہ پہلے اس بات کی جستجو ہوئی کہ دیکھوں غیب کا مضمون دوسرے مذاہب میں بھی ملتا ہے کہ نہیں تو کہیں نظر نہیں آیا۔کم سے کم میری آنکھوں سے تو وہ غائب رہا۔اگر کسی کو علم ہو کہ جس طرح قرآن کریم نے غیب کے مضمون کو اٹھایا ہے اور اس پر روشنی ڈالی ہے کسی اور مذہب میں یہ تصور موجود ہے تو دکھائے۔یہ چیلنج نہیں ہے میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں اگر ہے تو ضرور نسبتا ادنیٰ حالت میں پایا جائے گا۔اسلام نے جو غیب کا مضمون بیان فرمایا ہے یہ تو رفعتوں کی انتہا ہے اور پہلی بات جو انقلابی اس میں دکھائی دیتی ہے اس پر میں آپ کو غور کی دعوت دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ توحید کے لئے حقیقت میں غیب پر ایمان لانا از بس ضروری ہے کیونکہ اس سے پہلے جتنے بھی شرک کے مذاہب ہیں یا جو مذاہب میں شرک تبدیل ہوئے وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ ظاہر جو چیز سامنے ہو اسی پر ایمان لا سکتے تھے۔اس لئے ان کا ظاہر تھا جس پر وہ ایمان لاتے تھے اس ظاہر کا پیچھے ایک سایہ بنتا تھا جسے وہ سمجھتے تھے وہ غیب میں ہے لیکن اس پر ایمان نہیں لا سکتے تھے جب تک سامنے ظاہر طور پر بہت دکھائی نہ دے۔کوئی درخت کوئی سورج، کوئی چاند ، کوئی سمندر کوئی طوفان یہ چیزیں ان کے لئے ظاہری عبادت کے لئے تھیں اور اس کے پردے میں وہ سوچتے تھے کہ کچھ اور بھی ہوگا اور اس کے سوا کچھ اور ان میں دکھائی نہ دیتا تھا۔اس لئے اس کی صفات اس سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکیں جتنی ظاہر کی صفات تھیں۔اب اس پر آپ غور کر کے دیکھیں کہ جنہوں نے سورج کی پرستش کی ہے ان کی دیو مالائی کہانیاں پڑھ لیں ان میں سورج کی بھی تمام صفات کا بیان نہیں ہے سورج کی صرف چند صفات ان کو نظر آتی ہیں اور وہی ان کے دیوتا کی جلوہ گری ہے بس تو ایمان ظاہر پر لائے ہیں غیب پر ایمان لائے ہی کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ نے پہلی دفعہ یہ نمایاں چیلنج کر کے انسان کے دماغ کو بیدار کیا ہے کہ غیب پر ایمان لاؤ گے تو پھر ظاہر کی سمجھ آئے گی ورنہ آئے گی ہی نہیں اور ذات باری تعالیٰ غیب ہے، غیب میں