خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد 14 336 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء کرتے ہیں نئے نئے پر دے اٹھتے ہیں غیب سے اور ان کے پیچھے اور غیب دکھائی دینے لگتا ہے کہ پیچھے بھی کچھ ہے، ایک لامتناہی سفر ہے۔اب آپ دیکھ لیجئے کہ غیب کے تعلق میں جب تک ہم زندہ ہیں اور باشعور ہیں ہم سمجھتے ہیں سب کچھ دکھائی دے رہا ہے حالانکہ زمانہ بحیثیت زمانہ اکثر غیب میں ڈوبا ہوا ہے۔ایک انسان کا شعور جب کچھ دیر کے لئے ابھرتا ہے تو اس کی زندگی کے ساتھ ایک عالم وجود میں آتا ہے جیسے مچھلی بعض دفعہ سانس لینے کے لئے ذراسی او پر اچھلتی ہے اور پھر ڈوب جاتی ہے۔وہ چند لمحے جن میں گرمیوں میں خصوصاً جب پانی میں آکسیجن کی کمی ہو جائے تو مچھلیاں سطح پر ابھرتی ہیں اور منہ مار کر واپس چلی جاتی ہیں وہ چند لمحے اس کی زندگی کے ساتھ جو نسبت رکھتے ہیں اس سے بھی زیادہ نسبت ہمارے غیب کے شعور یا عالم وجود کے شعور کو عالم غیب سے ہے۔ایک ذات ابھرتی ہے اور دراصل اس کے ساتھ ایک جہان ابھرتا ہے اور وہ چند لمحے جو اس نے شعور کے گزارے اس کو ارد گرد کچھ دکھائی دیتا ہے اور اس لئے جہانوں کا نام عالمین رکھا گیا۔عالم کا مطلب ہے جس کو معلوم کیا جائے ، جس کا علم ہو۔تو عالم کا وجود ہی علم سے تعلق رکھتا ہے اور عالم پردہ غیب سے اچھلتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔ہر آدمی کے پیدا ہونے کے ساتھ ایک عالم پیدا ہوتا ہے، ہر کیڑے کے پیدا ہونے کے ساتھ ایک عالم پیدا ہوتا ہے اور ہر آدمی کے مرجانے کے ساتھ ایک عالم مرجاتا ہے، ہر کیڑے کے مرجانے کے ساتھ ایک عالم مرجاتا ہے۔قرآن کریم نے ان مضامین کومختلف جگہوں پر بہت ہی لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو سمجھ آئے گی اور نہ آیات پڑھ کر آپ چپکے سے آگے گزر جائیں گے۔جب حضرت آدم کے ایک بیٹے نے دوسرے بیٹے کو قتل کیا تو اس وقت قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے یہ لکھ دیا ہے اب بنی اسرائیل پر کہ اس کے بعد یہ سلسلہ یوں سمجھا جائے گا کہ اگر کسی نے ایک شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے سب کو قتل کر دیا۔اب یہ کیسے قتل کر دیا سب کو۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھ ایک کل عالم کا تصور لئے ہوئے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک اس طرح ہے۔جب ایک مرتا ہے تو وہ عالم ساتھ مرجاتا ہے اور عالم وہ چیز ہے جو خدا نے پیدا کی ہے اور ہماری ذات کی خاطر ، ہمارے شعور کی خاطر وہ آئینے ہیں جن کے رستے سے ہم خدا کو دیکھتے ہیں۔تو بہت بڑا گناہ ہے کہ اللہ نے ایک