خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد 14 278 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء جھکو، وہ ایسی عظیم ذات ہے کہ جب اس سے نیکی پھوٹتی ہے تو وہی اس کے لطف کا موجب ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جہاں بھی خدا کی ذات کے حوالے کے ساتھ لطف کا مضمون باندھا ہے وہاں ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ہماری طرح کا کوئی لطف ہے۔یہاں تک کہ ایک جگہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ خدا ہنس پڑا، عرش پر خدا ہنس رہا تھا اس بات پر۔ایک بیان کرنے والے نے کہا ایک موقع پر اللہ بھی آسمان پر اپنے ایک مہمان نواز مخلص بندے کے مچاکوں کے اوپر مچا کے لینے لگا۔یعنی یہ وہ واقعہ ہے جبکہ ایک صحابی آنحضرت ﷺ کے مہمانوں کی خاطر کہ وہ بھو کے نہ رہیں ، اپنا اور اپنی بیوی کا کھانا ان کو پیش کر چکا تھا اور بچوں کا بھی وہی تھا۔بچوں کو سلا دیا اور اس کے بعد پھر بھی چونکہ غریبانہ حالت تھی اس زمانے میں، یہ ڈر تھا کہ مہمان کے لئے کھانا کافی نہ ہوگا تو بیوی سے کہا کہ جب ہم کھانا شروع کرنے لگیں تو تم پکو سے دیئے بجھا دینا تا کہ اندھیرے میں اس کو یہ نہ پتا چلے کہ میں بھی کھا رہا ہوں کہ نہیں کھا رہا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ احساس دلانے کے لئے مہمان کو کہ میں بھی کھا رہا ہوں وہ خالی مچا کے لینے لگا۔جس طرح کھانے کا مزہ آتا ہے بہت مزہ آیا کر کے آوازیں نکالتے ہیں بعض لوگ تو عام طور پر نہ بھی نکالتے ہوں تو مہمان کو بتانے کے لئے کہ میں بھی شامل ہوں گویا کہ انہوں نے ایسی آوازیں نکالنی شروع کیں۔صبح جب نماز کے لئے حاضر ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رات ایک بندے کے مچا کے خدا کو اتنے پسند آئے ،خدا کے ایک بندے کے مچاکے اس کو اتنے پسند آئے کہ عرش پر وہ بھی مچا کے لینے لگا ( بخاری کتاب الحج) اور یہ بات خدا نے خود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بتائی نہ یہ کہ اس نے کوئی اطلاع خوددی ہو۔تو اب مچا کے لینا یا ہنسنا، بعض روایتوں میں جہاں تک میں نے دیکھی ہیں اس میں مچاکوں کا لفظ تو نہیں ملتا لیکن ہنسنے کا اور لطف اٹھانے کا ذکر ملتا ہے۔تو سارے مضامین جو اللہ کے تعلق میں بیان کئے گئے ہیں وہ انسانی اصطلاحوں میں بیان کئے گئے ہیں مگر انسانی اصطلاحیں خدا کی ذات پر صادق نہیں آتیں۔اگر کوئی بھی اصطلاح نہ استعمال کی جائے تو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ وہاں کیا ہورہا ہے کیونکہ انسانی تجربے کی کوئی بات بھی تو خدا میں نہیں ہے جو اس پر صادق آسکے۔پس ہمیں سمجھانے کی خاطر بعض دفعہ قرآن بھی ایسی مثالیں بیان کرتا ہے، بعض دفعہ احادیث ایسی مثالیں بیان کرتی ہیں اور ان مثالوں کے نتیجے میں جو مومن بندے ہیں ان کے ایمان بڑھتے ہیں اور جو بیمار ہیں ان کے اندر بیماری پیدا ہوتی ہے۔کہتے