خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد 14 277 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی احسان کے لطف اٹھاتا ہے اور وہ احسان کا لطف جو اس بات سے بھی مستغنی ہو جائے جس پر احسان کیا جا رہا ہے اس نے محسوس بھی کیا ہے کہ نہیں بلکہ اس بات سے بھی مستغنی ہو جائے کہ وہ اس احسان کے بدلے کہیں بدی تو نہیں کر دیتا۔وہ جو لطف ہے سب سے اعلیٰ درجے کا لطف ہے جس میں کوئی ہنگامہ نہیں ہے۔وہ ایک کامل سکون کا لطف ہے اور اپنی ذات میں دوام رکھتا ہے۔ایک اعلیٰ کردار کا انسان جب یہ رنگ پکڑ لے تو اس کو کہتے ہیں کہ اس نے خدائی رنگ پکڑ لیا۔اب انبیاء کو دیکھیں یہی بات تو ہے جو ان کو تقویت بخشتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے اہل مکہ پہ کتنے احسان کئے ، اہل عرب پر کتنے احسان کئے اور ناممکن ہے کہ ان احسانوں کا اور ان کے گہرے دائمی اثرات کا تصور بھی انسان باندھ سکے۔اس کے باوجود مسلسل آنحضرت ﷺ کی دل آزاری کی گئی۔آپ کو روحانی بدنی ہر قسم کے دکھ پہنچائے گئے۔آپ کے سب پیاروں کی اذیت سے آپ کی ذات کی اذیت میں اضافے کئے گئے لیکن بڑے استقلال کے ساتھ آپ ﷺ کے پائے ثبات اسی طرح قائم رہے، ان میں کوئی لغزش نہ آئی اور ایک ذرہ برابر صلى الله بھی آپ ﷺ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہے۔کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ یہ اس وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام تھا ، امانت کا حق ادا کرنا تھا۔لیکن کتنے ہیں جو یہ سوچ کر امانت کے حق ادا کر سکتے ہیں۔امانت کے حق ادا کرنے کا تعلق محض اس احساس سے نہیں ہے کہ ہم خدا کو جوابدہ ہیں۔امانت کا حق ادا کرنے کا تعلق انسان کی ذاتی شرافت اور نجابت سے ہے۔وہ ہو تو پھر یہ ذمہ داری انسان ادا کر سکتا ہے اور شرافت و نجابت یہ چاہتی ہے کہ وہ احسان کرے اور باوجود اس کے کہ اس احسان کا بدلہ بدی سے دیا جائے تب بھی احسان کرنا اپنی ذات میں ایک نجیب کے لئے لطف بن جاتا ہے اور اس لطف سے وہ مزے اٹھاتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ دنیا کو خبر نہ بھی ہو تب بھی وہ اپنی ذات میں مگن رہتا ہے کیونکہ وہ Noble ہے، اس کے اندر اعلیٰ کردار ہے۔یہ خدا کی شان ہے جو نبیوں میں اترتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ ساری کائنات اور جو کچھ بھی اس میں پیدا کیا گیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احسانات سے غافل ہو جائے اور بالکل بے پرواہ ہو جائے اور بالکل حمد نہ کرے۔مخلوق کو یہ بتایا گیا ہے کہ تم ہوتے کیا ہو تمہاری حیثیت کیا ہے، کہ تم خدا کی ذات میں کوئی فرق ڈال سکو، نہ تمہاری خوشی کوئی معنے رکھتی ہے، نہ کوئی تمہا راغم معنے رکھتا ہے۔تم خدا کے سامنے جھکونہ