خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد 14 279 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء ہیں دیکھو جی خدا ایسی باتیں کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو آریوں کے ساتھ مناظرے ہوئے ہیں وہاں بعض نہایت ہی بدخلق آریوں نے نہایت ہی گندی زبان قرآن کے متعلق استعمال کی کہ دیکھو جی تمہارے قرآن کے مطابق تو اللہ کے ہاتھ ہیں ، اس کے پاؤں ہیں، وہ جہنم میں پاؤں ڈالے گا حدیث میں آتا ہے، اور خدا جہنمی ہوا، اس قسم کی بکواس اور گندی زبان استعمال کرتار ہا لیکن قرآن کریم ایسی باتوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْى أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوْا فَيَقُولُونَ مَاذَا اَرَادَ اللهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِى بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا الْفُسِقِينَ (البقره: 27) کہ اللہ تعالیٰ تو ایک مچھر کی مثال بھی بیان فرماتا ہے اور فَمَا فَوْقَهَا سے یہ مراد نہیں کہ جو اس سے بڑی چیز ہو، اس سے ادنیٰ، یہاں فوق سے مراد چھوٹے ہونے کے مضمون میں اس کا فوق ہے یعنی یہ چھوٹی سی ذلیل چیز تمہیں دکھائی دیتی ہے۔اللہ تو اس سے بھی آگے جا کر جس کو تم حقیر ترین سمجھ سکتے ہو اس کی مثال بھی بیان کرتے ہوئے نہیں شرماتا۔اس کا معنی میں نے پہلے بیان کیا تھا اصل معنی تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی کسی تخلیق میں کسی شرم کی وجہ ہی کوئی نہیں کیونکہ ہر تخلیق شاندار ہے۔ہر تخلیق کوکنہ میں اتر کے دیکھیں تو آپ ورطۂ حیرت میں ڈوب جائیں گے، اتنا حیرت انگیز نظام تخلیق ہے کہ اس کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے میں بھی کمالات کا ایک عالم پنہاں ہے، ایک جہان چھپا ہوا ہے۔تو ایک تو یہ معنی ہیں۔لیکن دوسرے معنی یہ ہیں کہ مثالیں جب خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے تو اس کے مختلف اثر پڑتے ہیں، جو بیمار لوگ ہیں ان کی مرض میں اضافے ہو جاتے ہیں، جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اس لئے سمجھنے کی بات ہے کہ ان مثالوں کو کس طرح سمجھیں۔پس وہ مثالیں جو اللہ تعالیٰ اپنے متعلق یا دوسروں کے متعلق قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے ان کے اطلاق کا مسئلہ ہے۔ایک مومن ان کا ایسے رنگ میں اطلاق کرتا ہے کہ اس کا ایمان بڑھتا ہے۔ایک کا فرایسے رنگ