خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد 14 267 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ساتھ تعلق رکھنے والا خاندان ہے، ان کے دادا پہلی دفعہ مشرقی افریقہ میں احمدی ہوئے تھے اور وہ بڑے بہادر اور نڈر تبلیغ کرنے والے تھے۔خاندان نے جو بڑا متمول تھا بڑی مخالفتیں کی لیکن کبھی پرواہ نہیں کی تو ان سے میرے تعلق کو دیکھ کر ان کا خاندان جو بڑا وسیع تھا اپنا تعارف ہمیشہ ان کے حوالے سے کرواتا ہے۔کوئی خاتون آتی ہیں کہ میں نعیم عثمان کی پھوپھی ہوں، کوئی یہ بتایا کرتے ہیں کہ جی میں ان کا فلاں ہوں ، کوئی بتایا کرتے تھے کہ میں ان کا فلاں رشتہ دار ہوں، کوئی کہتا تھا میں نعیم عثمان کا یہ لگتا ہوں۔پس اس حوالے سے یہ مشہور ہوئے اور میرے ساتھ ان کا ذاتی تعلق جو تھا وہ ان کے رشتے داروں کے لئے قرب کا حوالہ بن گیا۔ان کے وصال کے بعد مجھے اب یہ کمی محسوس ہو رہی ہے کہ انگلستان میں اس جرات کے ساتھ ، اس حو صلے اور عقل کے ساتھ جواب دینے والے نئی نسل میں ابھی پیدا نہیں ہوئے۔جن لوگوں کو میں تیار کر رہا ہوں ان میں سے ایک ارشد احمدی صاحب ہیں ان کو سلمان رشدی کے متعلق جوابی کتاب کے لئے میں نے تیار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان میں یہ صلاحیت ہے۔اگر چہ وہ کھلاڑی ہیں عموماً اور تقریباً ہر کھیل میں بہت اچھے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے زبان کا سلیقہ بھی بخشا ہے، تقریر بھی اچھی کر لیتے ہیں، تحریر بھی اچھی ہے۔اس لئے جب ان کے سپر د میں نے یہ کام کیا تو ان سے تفصیل سے جواب دینے کے طریقے سلیقے کے متعلق بات ہوئی اور وہ سمجھ گئے۔جو مسودہ انہوں نے تیار کیا میرے آنے سے کچھ دن پہلے مجھے دکھایا بھی، پورا تو نہیں مگر اس کے نمونے پڑھ کے سنائے ، اس میں ابھی کچھ اصلاح طلب باتیں تھیں۔اس لئے ان کو میں نے سمجھا دیا ہے انشاء اللہ ان کی کتاب آئندہ چند ماہ میں آجائے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اور بھی نو جوان اب اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں۔صرف انگلستان کی بات نہیں ، جرمنی میں بھی پین میں بھی ، دوسری جگہوں میں بھی۔سپین میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کرم الہی صاحب ظفر کی اولا د ما شاء اللہ بڑی مستعد اور احمدیت کے دفاع میں ایک تنگی تلوار ہے لیکن باقی دنیا میں بھی ہمیں اس قسم کے مجاہدین چاہئیں جو نئی نسل میں اس کام کو سنبھال لیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ خلفاء کو اس قسم کے تائید کرنے والے اور اسلام کے دفاع میں مستعد نو جوان عطا فرما تا رہتا ہے۔مجھ سے بھی اس معاملے میں کوئی کمی نہیں رکھی مگر آئندہ نسلوں کے لئے میں سمجھتا ہوں مزید ضرورت ہے اور