خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد 14 266 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء اب ایک اور وفات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ جمعہ کے بعد عصر کی نماز آج جمع ہوگی، کیونکہ میں مسافر ہوں اور اکثر آج یہاں جو دوست ہیں وہ بھی مسافر ہیں تو اس کے معاً بعد جو جنازے پڑھے جائیں گے ان میں ایک جنازہ ہمارے انگلستان کے ایک نہایت مخلص دوست اور عزیز نعیم عثمان صاحب کا جنازہ ہے۔یہ بروز سوموار لندن میں صبح تین بج کر چالیس منٹ پر اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے۔بہت مخلص اور فدائی انسان تھے اور میرے ساتھ ان کا پرانا رابطہ خدمت دین کے تعلق ہی میں ہوا تھا۔جب شیخ مبارک احمد صاحب انگلستان کے امیر تھے اس زمانے میں ایک ان کی کتاب تھی زیر نظر اس کا مسودہ میرے پاس پہنچا جو احمدیت کے مخالفین کے جواب میں یہ تحریر کر رہے تھے اور میں اس سے بہت متاثر ہوا۔زبان بھی اچھی تھی اور ان کی پکڑ بھی بہت مضبوط تھی۔اگر چہ دینی علم کا کوئی پس منظر نہیں تھا لیکن اس کے باوجود خود محنت کر کے ان اعتراضات کے جوابات تلاش کرتے اور بڑی محنت اور سلیقے کے ساتھ ان کے جوابات کو اکٹھا کر کے ایک جوابی حملے کی صورت میں منظم کیا کرتے تھے۔صرف ایک مشکل تھی کہ جوابی حملے میں زیادہ ہی کچھ جبروت پائی جاتی تھی اور بعض دفعہ بہت سخت جوابی حملہ ہوتا تھا۔میر قاسم علی صاحب یاد آجایا کرتے تھے مجھے ان کی بعض عبارتیں پڑھ کے۔وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مولویوں کے حملوں کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور ان کا جوابی حملہ بہت سخت ہوا کرتا تھا۔تو ان کو پھر میں سمجھا کر، بعض ان کی کتابیں شائع ہونے سے پہلے ان کو بلا کر سبقاً سبقاً گزرتا تھا اور ان کو بتاتا کہ یہاں سختی کم کریں، یہاں سختی کم کریں۔ہمارا مقصد تو جواب دینا ہی نہیں بلکہ دل جیتنا بھی ہے اگر ہم ضرورت سے زیادہ سختی کر دیں تو بعض دفعہ یہ اعلیٰ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ہاں بعض دفعہ سختی ضروری بھی ہوتی ہے۔بعض شریر ایسے بد بخت ہوتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے ان کو انہی کی زبان میں بعض دفعہ نمونے کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ سمجھ نہیں سکتے کہ پاکوں پر زبان کھولنا کیسے ظلم کی بات ہے۔پس ان کا جو یہ خاص انداز تھا کہ سلمان رشدی کے ہم مزاج لوگوں سے ٹکر لیتے تھے اور بڑی شدت کے ساتھ ان کا زور کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے۔یہ ان کی شخصیت کو ایسا ممتاز کرنے والا ایک معاملہ تھا کہ رفتہ رفتہ ان کے ساتھ میرے تعلق کی بناء پر ان کا خاندان جو گجرات کے یعنی