خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 268
خطبات طاہر جلد 14 268 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء چونکہ ہمارا رابطہ غیر مذاہب سے زیادہ وسیع ہو چکا ہے اور زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے اس لئے محض ایک دوار دو دان دفاع کرنے والے کافی نہیں۔انگریزی میں بھی سپینش میں بھی ، جرمن زبان میں بھی اور البانین میں بھی ، بوسنین میں بھی، افریقہ کی زبانوں میں بھی کثرت سے ایسے مخلصین چاہئیں جن کا پس منظر خواہ دینی تعلیم کا نہ بھی ہو لیکن ان کا ذوق شوق اتنا بڑھا ہوا ہو کہ وہ ان کو اس کام کے لئے وقف کر دے اور نیا نیا لٹریچر وہ خود پیدا کرنے لگیں۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ایک نعیم عثمان جاتا ہے تو کئی نعیم عثمان عطا کر دے اور زندہ اور سعید قوموں کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے۔ایک سردار گزرتا ہے تو خدا دوسرے اور بہت سے سردار عطا کر دیا کرتا ہے جیسا کہ عرب شاعر کا ایک شعر غالباً میں نے اسی مسجد میں ایک دفعہ سنایا تھا: اذا سید منا خلا قام سید قول لما قال الكرام فعـول ایک عرب شاعر کہتا ہے اور بہت ہی بلند مرتبہ شعر ہے کہ جب ایک سردار ہم میں سے گزر جاتا ہے تو ہم بے سردار نہیں رہا کرتے۔” قام سید اس کی جگہ ایک اور سردار اٹھ کھڑا ہوتا ہے قؤل لما قال الكرام وہ ایسی ہی باتیں اسی شان کے ساتھ کہتا ہے جیسے پہلا سردار کہا کرتا تھا اور صرف باتیں کہنے والا نہیں بلکہ عمل کر کے دکھانے والا سردار ہوا کرتا ہے۔تو اللہ میں ہرگز رنے والے مجاہد احمدیت کے لئے خواہ وہ شہادت کے ذریعے دنیا چھوڑے یا طبعی موت کے ذریعے اور ایک نہیں بلکہ کثرت سے دوسرے ہمارے لئے پیدا فرما تار ہے اور عطا کرتار ہے۔آمین جنازہ غائب میں ایک اور دوست کا نام بھی شامل کر لیں۔یہ ہمارے شیخ محمد اقبال صاحب پراچہ سرگودھا کے ہیں۔ان کی بیٹی جو رشید احمد صاحب ایمبیسڈر کی بیگم ہیں انہوں نے مجھے کل فون پر اطلاع دی کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔یہ بھی پراچہ خاندان میں ماشاء اللہ بہت مخلص اور فدائی انسان تھے۔حضرت مرزا عبد الحق صاحب کے دست راست رہے ہیں۔اب لمبے عرصے سے بیمار تھے اس لئے یہ عملاً زیادہ خدمت نہیں کر سکتے تھے۔مگر آنے جانے والے سے ہمیشہ میرا ذکر کر کے دعا کی تحریک کیا کرتے تھے۔ان کا پیغام مجھے ملا ہے کہ جب بھی ان کی طبیعت کچھ بگڑتی تھی اس سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ غالباً میری وفات جمعرات کو ہوگی اور جمعرات ہی کو خلیفتہ اسیح کو میرا پیغام دے دینا