خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد 14 262 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء دولت خان کے ساتھ جو واقعہ گزرا ہے وہ اسی طرح ہوا ہے یعنی اگر چہ ریاض کے ساتھ براہ راست یہ واقعہ نہیں گزرا لیکن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کی یا داس واقعہ نے تازہ کر دی ہے۔تو کچھ تعلقات ایسے ہیں ان واقعات کے جو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شہادت کا ایک خاص مرتبہ ہے لیکن اب اگلا پہلو جو ہے وہ خطرناک ہے۔اگر اس شہادت کا یہ مرتبہ تھا کہ آج سو سال گزرنے کے بعد بھی وہ شہادت کا خون قوم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو اللہ رحم فرمائے اس علاقہ پر کہ یہ شہادت بھی ویسا ہی رنگ نہ لائے۔اس لئے ہم تو انتقامی کارروائیوں کے قائل نہیں ہیں ہم تو قوم کی فلاح اور بہبود کے قائل ہیں۔اس لحاظ سے میں نے یہ سارا مضمون کھول کر جماعت کے سامنے رکھا ہے کہ جہاں تک شہید کا تعلق ہے ان کے مراتب کی تو ہمیں نہ فکر ہے نہ ہم اس میں کچھ کر سکتے ہیں۔وہ اللہ کی دین تھی، ایک خاص اعزاز تھا جو ان کے نصیب ہوا ، جو قسمت کے ساتھ سینکڑوں ہزاروں سال میں بعض دفعہ کسی ایک آدمی کو نصیب ہوا کرتا ہے۔جہاں تک قوم کا تعلق تھا ہمیں دعا کرنی چاہئے اور خدا کی رحمت کو یہ واسطہ دے کر کہ کچھ بھائی جو نیک تھے ، جنہوں نے اپنے بھائی کا ساتھ دیا تھا ان کی اس نیکی کو ہی قبول فرمالے اور باقی قوم کو اس سزا سے بچالے۔یہ دعا اور تمنا ہونی چاہئے ہر احمدی کی کہ اس علاقے کولمبی خوفناک ہلاکت اور عذابوں سے بچائے۔جہاں تک اس مولوی کا اور اس مجمع کا تعلق ہے، جنہوں نے آنکھیں کھول کر اسلام کے خلاف نہایت ہی ظالمانہ کارروائی کی ہے ان کے متعلق خدا کی تقدیر جو چاہے فیصلہ کرے لیکن عموماً جو علاقہ ہے اور جو قوم ہے ان کے لئے ہمیں ہدایت کی دعا کرنی چاہئے اور یہ انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ ان کو بھی ویسا ہی عذاب ملے جیسا کہ افغانستان کے علاقے کے لوگوں کو ملا ہے اور اب تک مل رہا ہے۔یہ بڑی دیانت داری کے ساتھ اور دل کی گہرائی کے ساتھ میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ انتقام دیکھنے کی تمنا نہ کریں اور بخشش کی تمنا کریں جو ہدایت کے ساتھ وابستہ ہو۔اللھم اهد قومی فانھم لا یعلمون کی دعا ہے جو سب سے زیادہ اچھا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔پس اسی سنت کو دہراتے ہوئے ان لوگوں کے حق میں دعا کریں کہ اے اللہ ان کو ہدایت دے کر عذاب سے بچا اور افغانستان کے متعلق میں نے یہی آپ کے سامنے بات رکھی ہے کہ ان کی نجات کا راستہ اب