خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد 14 263 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء ہدایت ہی ہے۔بعض دفعہ جتنی چاہے قیمت ادا کرتے چلے جاؤ جب تک ہدایت نہیں پاؤ گے تو عذاب پیچھا نہیں چھوڑا کرتا۔حضرت نوح کی قوم کے ساتھ کیوں یہ ہوا کہ وہ ساری قوم مٹادی گئی اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ ان میں سے کوئی بھی ہدایت نہیں پائے گا اور چونکہ ہدایت نہیں پانا تھا۔اس لئے حضرت نوح کو اللہ نے اطلاع فرما دی کہ یہ قوم جو ہے اب یہ ہدایت کے دائرے سے باہر جا چکی ہے۔ایسی باہر جا چکی ہے کہ جو بچے پیدا کرے گی وہ بھی کافر اور مرتد ہوں گے، کا فر اور ظالم ہوں گے اور ان میں سے کوئی نیکی کا بیچ باقی نہیں رہا۔جب یہ اطلاع ملی تب حضرت نوح نے ان پر بددعا کی ہے اس سے پہلے نہیں کی اور ان پر بددعا کرنا انسانیت کے لئے دعا کرنے کے مترادف تھا۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے چونکہ افغان قوم کو ابھی رکھا ہوا ہے، سزا مل رہی ہے۔اس لئے میں یہ نتیجہ نہیں نکالتا کہ ان کا ہدایت کا نہ پانا گویا کہ مقدر ہے۔میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ چونکہ اکثر نے اس فلم میں شمولیت اختیار کی اور اس پر خوش ہوئے اس لئے جب تک وہ ہدایت نہیں پاتے ان کی سزا کا سلسلہ جاری رہے گا۔ورنہ نوح کی قوم کے ساتھ ایک بے انصافی سمجھی جائے گی۔اس لئے ان کے لئے بھی ہدایت کی دعا کریں۔بعض لوگ یہ ذکر کرتے ہیں اور ان کے چہرے پر یہ اطمینان ہوتا ہے کہ دیکھو اس قوم کو کیس بدلہ ملا ہے مگر مجھے تو تکلیف پہنچتی ہے۔یہ بدلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اعجاز تو ہے لیکن ایسا نہیں کہ ہمارے دل اس پر خوشی محسوس کریں۔اگر ایسا ہوا تو ہمارے دل سخت ہو جائیں گے اور خدا کے یہ نشانات ہمیں فائدہ پہنچانے کی بجائے ہمارے نقصان کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔اس لئے اپنے دلوں کی پاکیزگی کا خیال کریں۔اپنے جذبات کو اسلامی ادب کے دائرے میں رکھیں اور ان ظالموں کے خلاف بھی بد دعا کرنے کی بجائے یہ دعا کریں کہ اللہ ان کو ہدایت دے کیونکہ ہدایت پا جانا سب سے بہتر جواب ہے ان مظالم کا اور ہدایت کا انتقام سب سے اعلیٰ انتقام ہے۔پس اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔جہاں تک ان کے پسماندگان کا تعلق ہے میرا رابطہ چوہدری خورشید احمد صاحب جوان کے برادر نسبتی ہیں ان سے فون پر جرمنی میں ہوا ہے اور ان کے ذریعے مجھے اطلاع ملی ہے۔دو دفعہ ان سے فون پر بات ہوئی ہے کہ ان کے سب عزیز اللہ کے فضل سے پورے حوصلے میں ہیں اور قطعاً ان کو کوئی