خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 261

خطبات طاہر جلد 14 261 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء ے خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد ( کلیات فیض) مگر بعض دفعہ شہادت کے خون اتنے پکے ہوتے ہیں اور بعض شہادتیں خصوصیت کے ساتھ ان کو شہید کرنے والوں کے خلاف اللہ کا غضب ایسا بھڑکاتی ہیں کہ خون کی برساتیں بھی مسلسل ہوتی رہتی ہیں اور وہ خون کے دھبے دھلتے نہیں، مزید خون کی طلب کرتے رہتے ہیں۔اللہ رحم فرمائے افغانستان پر ، ان کے دن بدلیں اور وہ اسی طرح بدل سکتے ہیں کہ افغان قوم کی توجہ احمدیت کی طرف ہو اور وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں اور غفلتوں کی اللہ تعالیٰ سے نیک اعمال کے ذریعے معافی مانگیں اور ایمان لا کر معافی مانگیں اس کے بغیر افغانستان کی تقدیر سدھرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔اب پاکستان کے علاقہ میں جو یہ واقعہ گزرا ہے یہ بھی اس علاقے کے لئے اس لحاظ سے بدشگون ہے اگر چہ احمدیت کے لحاظ سے ایک بہت ہی عظیم شہادت کا اضافہ ہے جو ہماری تاریخ کو اور بھی زیادہ خوبصورت اور دلکش اور عظیم بنادے گا اور ہمیشہ آسمان شہادت پر ان کی شہادت بھی نمایاں خوبصورت حروف میں لکھی ہوئی دکھائی دے گی لیکن جہاں تک اس علاقے کا تعلق ہے اس میں ایک اور پہلو خاص طور پر قابل ذکر یہ ہے کہ ان کو آخری فتوی دے کر شہید کرنے والا ملاں بھی افغانستان ہی کا تھا اور جس طرح صاحبزادہ عبداللطیف شہید کا واقعہ گزرا ہے ان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا کہ پہلے جن علماء سے ان کا مناظرہ کروایا گیا۔ان علماء میں سعادت اور شرافت تھی۔بارہ علماء چنے گئے تھے جن کے ساتھ ان کا مناظرہ کروایا گیا اور اس مناظرے کے بعد ان سب کا یہ فیصلہ تھا کہ اس کی باتوں میں کوئی بھی بات اسلام کے خلاف نہیں اور اس لحاظ سے ہم ان کے ارتداد کا اور قتل کا فتویٰ صادر نہیں کر سکتے۔تب بادشاہ کا ایک کزن نصر اللہ خان جو دراصل اس ساری شرارت کا کرتا دھرتا تھا اس نے اپنی مرضی کے بعض علماء کو بلا کر ان کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر تم نے فتویٰ صادر نہ کیا تو میں تمہارے ساتھ یہ کروں گا۔چنانچہ اس کے دباؤ میں آکر بالآخران علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ واقعہ یہ مرتد ہے۔اب مجھے تفصیل یاد نہیں کہ وہ بارہ اس میں شامل ہو گئے تھے یا یہ الگ فتویٰ تھا مگر واقعہ کی ترتیب یہی ہے کہ پہلے علماء نے فتویٰ دینے سے انکار کیا اور صاف کہا کہ ان کے عقائد میں کوئی بات بھی اسلام کے خلاف نہیں پھر دباؤ میں آکر دوسرے علماء نے ان کے خلاف فتویٰ دیا اور بعینہ یہی واقعہ ان کے ساتھ گزرا ہے۔