خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 222

خطبات طاہر جلد 14 222 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔پس وہ خود مختار ہے ان معنوں میں کہ وہ شوری کے فیصلوں کو مستر د کر سکتا ہے اور وہ پابند ہے ان معنوں میں کہ وہ اسلام کے مقرر کردہ نظام کے ماتحت ہے جسے بدلنے کا اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔پس اس آیت کی تشریح میں جو میں نے عرض کیا بعینہ حضرت مصلح موعودؓ کا دراصل موقف یہی تھا۔امر تو خدا کے ہاتھ میں تھا اور ہے اور ہمیشہ رہے گا اور شریعت کے امور میں جو دائمی فیصلے ہوچکے ہیں انہیں دنیا کا کوئی انسان بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا اور یہی فرق ہے خلیفہ اور ڈکٹیٹر میں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ کو تم نے اتنے اختیار دے رکھے ہیں یہ تو ڈکٹیٹر ہو گیا۔وہ ڈکٹیٹر کیسا ہے جس کے اوپر ساری دنیا کا بادشاہ ہر وقت نگران کھڑا ہے اور ہر بات میں وہ خدا کو جوابدہ ہو۔دنیا کے سامنے جوابدہ ہونا خواہ وہ کیسا ہی جابر بادشاہ ہو جس کے سامنے کوئی جوابدہ ہو کوئی اتنا مشکل کام نہیں کیونکہ انسان دنیا کو دھو کے دے سکتا ہے، تاویلیں اختیار کر سکتا ہے۔فرضی بہانے بنا کر اپنے جرم کی پردہ پوشی کر سکتا ہے لیکن خدا کے سامنے تو کوئی بہانہ نہیں چل سکتا۔پس اسی شوری میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ دیکھو مجھے ایک اختیار ہے جو بظاہر تم سے بالا ہے مگر تم نہیں جانتے کہ تم انسانوں کے سامنے جوابدہ ہو اور میں خدا کی جبروت کے سامنے جوابدہ ہوں۔اس لئے ممکن نہیں ہے کہ میں اس جوابدہی کے تصور کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی زیادتی کا کوئی تصور بھی کر سکوں، ایسی بات سوچ بھی سکوں لیکن اس کے علاوہ آپ نے اس استنباط کو الله اسلامی تاریخ سے بھی ثابت کیا۔آپ نے فرمایا دیکھو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلفاء نے بھی بعینہ آنحضرت ﷺ کا طریق اختیار کرتے ہوئے شوری بلائی۔بعض دفعہ اعلان کے ذریعے ، بعض دفعہ چند صحابہ کو یا صائب الرائے لوگوں کو بلایا لیکن فیصلہ خلیفہ خود کرتا تھا۔ایک مثال اس کی آپ نے حضرت عمر نے زمانے سے دی ہے کہ جب ایران کے ساتھ جنگ ہورہی تھی تو اس وقت ایک ایسا خطرناک موقع در پیش تھا کہ حضرت عمرؓ سے وہاں کے موقع کے جرنیل نے یہ گزارش کی کہ اگر فوری طور پر آپ نے کمک نہ بھجوائی تو یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے، ایرانی فوج کو ہم زیادہ دیر روک نہیں سکتے۔وہ عرب میں داخل ہو جائے گی اور پھر بہت بڑی تباہی کا خطرہ درپیش ہے اور اس حادثے میں بھی جو پیش آیا تھا جس کے اوپر یہ مسلمانوں کو مشکل پیش آئی