خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد 14 221 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء ایک Institution کے طور پر مجلس شوری وجود میں آئی ہے اور بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ بحیثیت Institution اس کا وجود میں آنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ مالی معاملات ایسی نوعیت اختیار کر رہے تھے کہ جس کے نتیجے میں محض اتفاقاً کبھی اس سے مشورہ کر لینا، کبھی اس سے مشورہ کر لینا کافی نہیں تھا بلکہ ساری جماعت کو جو چندہ دہندہ ہے اس کو اعتماد میں لینا اور ان امور پر فیصلوں میں ان کے مشورے طلب کرنا ضروری تھا اور یہی مجلس شوریٰ ہے جواب برکت پا کر پھولتی پھلتی رہی اور اب خدا کے فضل سے بہت سے دنیا کے ممالک میں بعینہ اسی مجلس شوری کے نمونے قائم ہو چکے ہیں۔پس آج جبکہ میں ربوہ کی مجلس شوری سے مخاطب ہوں تو درحقیقت کل عالم میں جہاں جہاں بھی یہ آواز پہنچ رہی ہے اور ہر خطے میں پہنچ رہی ہے وہاں بھی جو جماعت کے دوست سننے والے ہیں ، میں ان سب سے دراصل مخاطب ہوں اور یہ مجلس شوری در اصل ایک عام عالمی شوری کا رنگ اختیار کر چکی ہے۔تو اس پہلو سے میں چند باتیں آپ کو یاد دلانی چاہتا ہوں۔یہ جو دودو الگ الگ ذکر ہیں۔ایک ہے سوری بَيْنَهُمُ اور ایک ہے وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ تو کیا یہ مضمون صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھا کہ جب تک تو ان لوگوں میں رہے مشورہ کر اور پھر فیصلہ تو کر اور اللہ پر توکل کر یا یہ ہمیشہ کے لئے صلى الله اسلام کے مرکز پر فائز خدا کے نمائندے کے لئے بھی تھا جس نے بعد میں خلیفہ بن کر آنحضرت علی کی جوتیوں کے غلام کی حیثیت سے اس منصب پر فیصلے دینے تھے، یہ اہم فیصلہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اسے جو سمجھا وہ یہی تھا کہ یہ ان احکامات میں سے ہے جو منصبی احکامات صرف نبوت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ نبوت کے بعد نبوت کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے جو بھی نظام وجود میں آئے گا یا آنا تھا اس نظام پر فائز انسان کے ساتھ بھی یہ حکم تعلق رکھتا ہے اور شوری کا یہ حکم کہ آخری فیصلہ صاحب امر کرے گا یہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہے۔اس کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے اسی شوریٰ میں جوفر مایا وہ یہ تھا: الله اسلام وعدہ کرتا ہے کہ اسے ( یعنی خلیفہ وقت کو) خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت حاصل ہوگی۔پس اس کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی خاص ضرورت سے جو نہایت اہم ہو مشیر کاروں کی کثرت رائے کے فیصلے کو رد کر دے