خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 223
خطبات طاہر جلد 14 223 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء اس میں بھی بہت سے مسلمان وہاں شہید ہو گئے تھے۔فیصلہ یہ ہور ہا تھا کہ کیا خلیفہ وقت خودشامل ہو یا محض کمک بھیجے اور کسی اور کوساتھ بھیج دے اور تمام صحابہ کا یہ مشورہ تھا کہ اتنا اہم موقع ہے کہ خلیفہ وقت کو خود وہاں جا کر حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور اس کے نتیجے میں اس کی برکت سے بھی کا یا پلٹ جائے گی۔ایک شخص تھا جو خاموش کھڑا تھا وہ حضرت علی تھے۔حضرت عمرہ کی نظر ان پر پڑی۔آپ نے پوچھا علی آپ کیوں خاموش ہیں ، آپ کی خاموشی سے میں سمجھ رہا ہوں کہ آپ کی رائے کچھ مختلف ہے تو بتائیں آپ کی رائے کیا ہے؟ انہوں نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اب وہ ایسا وقت آچکا ہے کہ خلیفہ وقت کو خو داب میدان جنگ میں نہیں جانا چاہئے کیونکہ ایک میدان جنگ نہیں ، ایک ذمہ داری نہیں ، دنیا میں ہر سو کئی قسم کے میدان جاری ہیں۔اگر خلیفہ اپنے آپ کو ایک میدان جنگ میں جھونک دے گا تو باقی سب جتنے بھی مقابلے اور مجاہدے ہو رہے ہیں ان کی نگرانی سے الگ ہو جائے گا اور بہت بڑا خطرہ ہے یہ کہ اگر خدانخواستہ وہاں کچھ ہو جائے تو پھر سارے عالم اسلام کو نقصان پہنچ جائے گا اس لئے آپ کو وہاں شامل نہیں ہونا چاہئے۔حضرت عمرؓ نے سب صحابہ کی رائے رد کر دی اور اس رائے کو قبول کر لیا۔ایک اور واقعہ جس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے تو نہیں فرمایا لیکن اس سے تعلق رکھتا ہے اور اس سے زیادہ عظمت کا واقعہ ہے اور زیادہ معاملے پر کھلی روشنی ڈال رہا ہے وہ حضرت ابو بکڑ کا فیصلہ ہے۔حضرت ابو بکر نے جو نہی آپ کو منصب خلافت پر فائز فرمایا گیا یہ بہت بڑا فتنہ اپنے سامنے کھلتا ہوا، اٹھتا ہوا اور بہت بدا را دوں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور ہوتے ہوئے دیکھا۔اس کو بعض لوگ فتنہ ارتداد کہتے ہیں دراصل یہ فتنہ بغاوت تھا۔تمام عرب قبائل نے محمد رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد بغاوت شروع کر دی اور جگہ جگہ سے ایسی منحوس خبر میں آرہی تھیں کہ وہ کہتے ہیں کہ وقت آگیا ہے اچھا اب ان کو الٹا دو اور اپنی حکومت خود قائم کرو۔ایسے موقع پر ایک ایسا لشکر تھا جو اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک دور کے محاذ پر بھیجا جانا تھا جس کو خود آنحضرت ﷺ نے تشکیل دیا تھا اور خود ہی اپنے غلام زید جس سے بیٹوں کی طرح سلوک فرمایا اس کے بیٹے کو جو نو عمر تھا، اس لشکر میں ان سے بڑے بڑے صحابہ بھی موجود تھے، اسامہ بن زید کو امیر بنا دیا۔ایسے موقع پر صحابہ اکٹھے ہوئے اور اس میں بلا استثناء تمام صحابہ کا یہ مشورہ تھا کہ اے امیر المومنین یہ بہت خطرناک وقت ہے اس وقت اس لشکر