خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 217
خطبات طاہر جلد 14 217 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء واپس مڑ گیا۔ایک بنیادی وجہ تھی کہ میں نے مشورہ دیا تھا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرو اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے میری بات نہیں مانی اور دوسروں کی بات مان لی اور باہر نکل کر اب لڑائی کے لئے آگئے ہیں۔اپنے ساتھیوں کو کہا چلو ہم واپس چلتے ہیں۔یہ مزاج تھا جبکہ کافی اس مزاج کو پہلے ہموار کیا جا چکا تھا۔اگر آنحضرت ﷺ ان کو ذہنی قلبی، روحانی طور پر مشورے دینے کے لئے تیار نہ کر چکے ہوتے تو یہ کم آ نہیں سکتا تھا کہ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ اور اس حد تک کامیاب ہوئے ہیں کہ اس کے بعد فرمایا ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ تو مشورہ لے مگر فیصلہ تو کرے گا۔جب تو فیصلہ کر لے کہ کس مشورے کو قبول کرنا ہے کس کو نہیں کرنا، سب کو رد کرنا ہے اور ایک نئی بات پیدا کرنی ہے یا ان کے مطابق عمل کرنا ہے تو وہ فیصلہ جس کی خدا حمایت کرے گا وہ شوری نہیں ہے وہ تیرا فیصلہ ہے۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللہ پھر اللہ وعدہ کرتا ہے کہ تیرے فیصلے کی پشت پناہی فرمائے گا اور اس کی تائید کرے گا۔تو یہ مجلس شوریٰ ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے کے حوالے سے جاری فرمائی گئی لیکن یہ ایک مجلس نہیں ہے۔یہ ایسی مجلس ہے جو سارا سال ہمہ وقت جاری رہی یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے سال کا کوئی ایک دن مقرر نہیں فرمایا تھا کہ آج مجلس شوری ہوگی۔ہرا ہم معاملے میں جس میں آپ سمجھتے تھے کہ مشورہ ہونا چاہئے۔آپ بعض دفعہ زیادہ کو بلا لیا کرتے تھے بعض دفعہ کم بلا لیا کرتے تھے بعض دفعہ اعلان عام فرما دیتے تھے کہ لوگ اکٹھے ہو جا ئیں مشورہ کرنا ہے۔تو کئی طریق تھے شوری کے اور یہ انتخابی طریق جو آج کل رائج ہے یہ من و عن اس طرح رائج نہیں تھا کیونکہ اس وقت اس کی نہ ضرورت تھی اور نہ غالباً ان حالات میں یہ موزوں تھا اگر ہوتا تو پھر رسول اللہ ﷺ وہی کرتے۔آنحضرت کے وجود کے گرد سارے صحابہ اس طرح گھوم رہے تھے جس طرح محور کے گرد سیارے گھومتے ہیں اور ایک ہی مرکز تھا، فیصلے کا بھی مرکز وہی تھا اور حوالے دینے کا بھی وہی مرکز تھا۔وہ چاہتا تو دوسرے ارد گرد گھومنے والوں سے بات پوچھتا ،مشورہ لیتا ہے۔چاہتا تو اسے نظر انداز کر دیتا اور فیصلے کی طاقت، قوت آنحضرت ﷺ کی تھی مگر آپ نے جو نمونہ دکھا یا وہ آئندہ سب فیصلہ کرنے والوں کے لئے رہنما بن گیا۔آپ نے فیصلوں کو ہمیشہ تو قیر کی نظر سے دیکھا ہے اور یہ لِنتَ لَهُمْ کے مضمون میں