خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 216
خطبات طاہر جلد 14 216 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء تبدیلیاں پیدا فرما ئیں ، ان کے دل جیت لئے۔اس کے بعد بھی کمزوریاں رہتی ہیں ،غلطیاں رونما ہوتی ہیں تو فرمایا فَاعْفُ عَنْهُمْ ان سے عفو کا سلوک کرو وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ اور ان کو بخش نہیں فرمایا، ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرما۔یہ بھی الہی کلام ہونے کا ایک عجیب نشان ہے ورنہ عام طور پر یہی زبان پر آتا ہے کہ ان سے عفو کر ان کو بخش دے۔فرمایا عفوکر اور بخشنے کا معاملہ تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔کئی ایسی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں کہ انسان عفو سے کام لے مگر اللہ معاف نہ کرے اس لئے فرمایا وَ اسْتَغْفِرُ لَهُمُ ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کرتارہ۔وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ یہ وہ لوگ ہیں جن سے مشورہ کرنا ہے۔اگر اس پاک تبدیلی کے بغیر لیا مشورہ تو مشورے کی قیمت بھی کچھ نہیں رہتی۔وہ جن کے دلوں میں عناد ہو جن کے دلوں میں سختیاں ہوں ان سے مشورے کریں تو بات بات پر جنگیں چھڑ جاتی ہیں، لڑائیاں ہو جاتی ہیں، مجالس کے مزاج بگڑ جاتے ہیں اور باوجود اس کے کہ جماعت احمدیہ میں ایک لمبے عرصے کی شوری کی تربیت ہے ذرا آپ نگرانی کم کریں تو ایسے واقعات شروع ہو جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف بعض دفعہ بدخلقی سے کام لیا جاتا ہے۔تو یہ وہ موقع ہے جس کے متعلق عفو کا ذکر ملتا ہے لیکن ایک حد تک اور یہ غلطیاں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ جو خدا کو اس طرح ناراض کر لیں کہ پھر انسان کا عفو کسی کے کام نہ آئے جب تک اللہ سے اس کی مغفرت طلب نہ کی جائے اس وقت تک اس کا یہ گناہ کہ اس نے ایک مشورے کے موقع پر ایک اہم قومی معاملے میں ایسا رویہ اختیار کیا جس سے دلوں کے جوڑنے کی بجائے دلوں کے پھٹنے کے سامان پیدا ہو گئے ، یہ بعض دفعہ اتنا بڑا گناہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کبائر گناہ میں لکھا جاتا ہے۔اس موقع پر فرمایا کہ تیرا عفو، تیری رحمت جو ہے وہ اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی تو بے چین رہتا ہے کہ کسی طرح ان کو معافی مل جائے۔پس تو پھر خدا سے بخشش طلب کر کیونکہ تیری دعاؤں کے نتیجے میں بعض دفعہ ایسے ایسے گنہگار بھی بخشے جا سکتے ہیں اور فرمایا وَشَاوِرُهُمُ في الْأَمْرِ ان سے مشورہ طلب کر۔اب عرب تو مزاج کے ایسے ٹیڑھے تھے کہ ان سے مشورہ طلب کیا جاتا اور نہ مانا جاتا تو بھڑک اٹھتے تھے۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے جو حد سے زیادہ بے حیائی اور بے وفائی کا معاملہ کیا اور جنگ احد میں اپنے ساتھی لے کر میدان جنگ سے خطرے کے وقت پیچھے