خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد 14 218 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء بات داخل ہے۔کوئی ایسا شخص جس کو آخری فیصلے کا اختیار ہو،مشورے کے لئے لوگوں کو بلائے اور ہر دفعہ بے اعتنائی کرے اور آخر پرتان اس بات پر ٹوٹے کہ فیصلہ تو میں نے کرنا ہے ناں ٹھیک ہے جو تم نے کہہ دیا ختم تو یہ بھی ایسا نظام نہیں جو باقی رہ سکے ، قائم رہ سکے اور اس آیت کے شروع حصے میں جو تنبیہ کی گئی ہے لَا نَفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ایسے مشیر پھر ایسے شخص کے اردگرد سے دور بھاگ جاتے ہیں۔اس لئے وہاں بھی لنت کا مضمون اس میں داخل ہے۔اس شخص کو اختیار ملا ہے جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ با اخلاق تھا اور لوگوں کے ساتھ تحکمانہ سلوک کا عادی نہیں تھا بلکہ جانتے ہوئے کہ حکم آخری صورت میں میرے ہاتھ میں ہے پھر بھی ان سے نرمی سے بات کر کے ان سے مشورے طلب کرتا تھا اور جہاں تک ممکن ہوا ان کے مشوروں کا لحاظ کرتا تھا۔پس آنحضور ﷺ کی زندگی میں سوائے ایک دو واقعات کے کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا جس میں آنحضور ﷺ نے مشوروں کا لحاظ نہ فرمایا ہو اور ایک واقعہ ہے جہاں اپنے فیصلے پر اصرار فرمایا ہے اور پھر آسمان سے گواہی اتری کہ وہی فیصلہ درست تھا اور جو اس فیصلے میں اس مشورہ میں ساتھ شامل نہ ہوئے وہ ہمیشہ اس بات پر پچھتاتے رہے اور یہ صلح حدیبیہ کا موقع ہے۔میدان حدیبیہ میں جب آنحضور ﷺ اور آپ کے رفقاء عمرے اور حج کی نیت سے مکہ کی راہ میں حدیبیہ کے مقام پر روک دیئے گئے اور کفار مکہ نے کہا کہ نہیں آگے قدم نہیں بڑھانا۔اگر تم اب اس سے آگے بڑھے اور سکے میں عمرے اور حج کی نیت سے داخل ہونے کی کوشش کی تو پھر خون بہے گا۔تلوار کے زور پر کرنا ہے تو کرو اس طرح ہم اجازت نہیں دیں گے۔اس موقع پر تمام صحابہ بلا استثناء اس بات کے قائل تھے اور یہی مشورہ آنحضور ﷺ کو بڑے اصرار سے دیا کہ خدا نے ہمیں خبر دی ہے کہ ہم نے عمرہ کرنا ہے یا بیت اللہ کا طواف کرنا ہے۔یہ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے۔جان کی بات ہے تو ہم اپنی جانیں پیش کرتے ہیں۔خون کی بات ہے تو ہمارا قطرہ قطرہ اس میدان میں بہہ جائے ہمیں کوئی گریز نہیں ہے۔اس لئے آپ فیصلہ فرما ئیں اور ہم آگے بڑھیں گے۔آنحضرت ﷺ نے تمام فیصلے کورد کر دیا، ایک بات نہیں مانی ، سب باتوں کو رد کر دیا اور فرمایا جو خدا مجھے بتاتا ہے، خدا نے جو مجھے سمجھایا ہے وہ تو یہی ہے کہ اگر راہ میں خطرہ ہو تو حج فرض نہیں رہتا۔راستہ محفوظ نہ ہو تو حج کیسا اور عمرہ کیسا وہ تو اس کی تیاری کے لئے ایک پہلا حصہ تھا۔اصل مقصد یہ تھا کہ پہلے لمبے عرصہ تک وہاں قیام ہو پہلے عمرہ