خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 213

خطبات طاہر جلد 14 213 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء دی جاتی ، بعض دفعہ خاص موقعوں پر دے بھی دی جاتی ہے یا دی نہیں جاتی ہے لیکن مالی اخراجات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔پس مسلمانوں کے لئے شوری کے دوران چونکہ قانون سازی ان معنوں میں تو ممکن نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت میں کوئی دخل دیں اور اس میں کچھ اضافہ کریں یا ان میں سے کوئی کمی تجویز کریں وہ تو دائمی شریعت ہے۔پس سب سے اہم چیز باقی رہ جاتی ہے وہ بجٹ ہے اور مالی معاملات پر غور کرنے کے لئے وہ آپس میں مشوروں کے بعد فیصلے کرتے ہیں اور اس پہلو سے ساری قوم اعتماد میں آجاتی ہے اور بعینہ یہی نظام ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ میں ہر جگہ قائم ہے تو بیچ میں وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ کو داخل کرنا بہت ہی اہم مضمون ہے۔اس مضمون کے تعلق میں مزید جو باتیں میں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ دو طرح کی آیات ہیں یا دو آیات ہیں جو شوری کے مضمون پر خصوصیت سے روشنی ڈالنے والی ہے۔ایک حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے حوالے سے اور ایک امت کے عمومی حوالے سے ہے۔یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے یہ امت کے حوالے سے ہے جہاں تک مالی اخراجات کے آخری فیصلے کا اختیار ہے وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہی اللہ ہی کو حاصل رہا اور آپ ہی یہ فیصلے فرما یا کرتے تھے اور جو مشورہ کرتے تھے وہ پارلیمنٹ کے مشورے کی طرح نہیں تھا کہ جو مشورہ دیا جائے اس پر ضرور عمل کریں۔آپ کے متعلق خدا تعالیٰ نے دوسری جگہ یہ فرمایا ہے فَيَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ( آل عمران: 160) کہ اے محمد کی یہ خاص اللہ کی رحمت ہے تجھ پر کہ تو ان کے لئے نرم ہو گیا ہے اور خاص رحمت اور نرمی کا صحابہ کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کے تعلق میں کیوں ذکر فرمایا گیا سب سے پہلے تو یہ بات قابل غور ہے۔صحابہ ایک ایسی اکھڑ قوم سے آئے تھے جو بہت انا نیت رکھتی تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں خودسری اور عزت نفس کے معاملات اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور عزت نفس کے تعلق میں عربوں کے درمیان بعض ایسی جنگیں بھی ہوئی ہیں کہ معمولی سی بات کے نتیجے میں دو، دوسوسال تک جنگ جاری رہی اور قبائل کی دشمنیاں قدیم سے چلتی چلی جارہی تھیں۔پس یہ وہ قوم تھی جس میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے قدم رکھا اور ان کے بغضوں کو ٹھنڈا کر دیا۔