خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد 14 214 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء لِنتَ لَهُمُ میں ایک معنیٰ یہ ہے کہ ان کا علاج غیر معمولی محبت اور شفقت تھا اس کے بغیر ان کے سخت دلوں کی اصلاح ممکن نہیں تھی۔پس خدا نے تجھے وہ غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ جس کے ذریعہ ایسی پتھر دل قوم کو بھی تو موم کی طرح پگھلا رہا ہے اور اگر تو ان کے دلوں کا علاج نہ کرتا اور ایک عام آدمی کی طرح ان جیسا ہی خلق دکھاتا تو یہ تجھے چھوڑ کر تجھ سے دور بھاگ جاتے۔اس مضمون میں اس عظیم انقلاب کو مختصر لفظوں میں بیان فرما دیا جو آنحضرت ﷺ نے عربوں کی سرشت میں پیدا کر دیا ہے۔جو سینکڑوں سال سے یا ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے ان کی فطرت ثانیہ بن چکے تھے ان رجحانات کو تبدیل کر دیا ہے اور تھوڑے عرصے کے اندر یہ عظیم انقلاب برپا کیا ہے۔وہ آپ کی غیر معمولی نرمی اور شفقت تھی جس کی وجہ سے آنحضور ﷺ نے ان کے دل جیتے ہیں تب وہ اس قابل ہوئے ہیں کہ اپنی گردنیں محمد رسول اللہ ﷺ کے حکم اور خدا کے حکم کے سامنے جھکا ئیں۔دلوں کے جیتے بغیر استجابت کا مضمون نہیں بنتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک دل مائل نہ ہوں اس وقت تک صحیح معنوں میں حکم کی پابندی ممکن ہی نہیں ہے۔بعض لوگ جو بڑ بڑاتے ہوئے کام کرتے ہیں اور اعتراض بھی کرتے جاتے ہیں کہ جی ہاں حکم تو مانتے ہیں مگر ان کی ساری طاقتیں اس حکم کے خلاف کام کر رہی ہوتی ہیں لیکن ظاہری طور پر جسم اس کے مطابق کام کر رہا ہوتا ہے اور ان کے اس تعاون میں کوئی بھی برکت باقی نہیں رہتی۔اس لئے استجابت کا جو اصل مضمون ہے جو میں نے اس آیت کے حوالے سے پیش کیا تھا وہ یہ ہے کہ اپنی تمام طاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ خدا کی بات پر لبیک کہتے ہیں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنی تمام طاقتوں سے خواہ وہ قلبی ہوں یا دماغی ہوں یا روحانی ہوں یا جسمانی ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اطاعت کی گردن جھکا دیتے ہیں یہ ہے استجابہ۔تو اس استجابت کے لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کو تیار کیا ہے اور یہ اللہ کی خاص رحمت تھی جو آپ کو خلق عظیم عطا فرمایا اور اس کے نتیجے میں پھر ان سنگ دلوں کو موم میں تبدیل کیا، پگھلایا اور جانثاروں میں تبدیل کر دیا۔دوسری جگہ قرآن کریم نے اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے: