خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد 14 212 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء پر ہی گزارہ تھا اب اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا ہے کہ میں خود اب شوری میں ان کے ساتھ شامل ہورہا ہوں اور اس خطبے کے ذریعے ان سے ایسے خطاب کر رہا ہوں جیسے ان کے سامنے کھڑا بول رہا ہوں۔اگر چہ یہ وقت ایسا ہے کہ شاید وہ ایک جگہ سب اکٹھے نہ ہو سکے ہوں کیونکہ پاکستان کے وقت کے لحاظ سے شوری کا اجلاس ختم ہو چکا ہو گا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ بعض ٹولیوں کی صورت میں بعض جگہوں پر مجلس شوری کے ممبران اکٹھے بیٹھ کر بھی اس خطاب کو سن رہے ہوں گے۔اس آیت کریمہ کے اندر جو اور مضامین ہیں ان میں پہلے ایک مضمون کی طرف میں خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں جو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور اس کے الہی کلام ہونے کا ایک عظیم ثبوت ہے۔تمام قرآن کریم میں جہاں بھی وَأَقَامُوا الصَّلوةَ کا ذکر آیا ہے وہاں رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کا ذکر اس کے ساتھ ہی باندھا گیا ہے اور آپ کو درمیان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا مگر اس آیت میں ایک استثنائی انداز بیان ہے۔فرمایا وَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وہ جو اللہ کی ہر آواز پر لبیک کہتے ہیں وَأَقَامُوا الصلوۃ اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔پھر یہ نہیں فرمایا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ فرمایا وَ أَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ ان کے اہم معاملات شوری سے طے پاتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ تو جو کچھ ہم ان کو عطا کرتے ہیں اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔تو حقیقت میں بنیادی وجہ مشورہ مالی اخراجات ہیں اور اس شوری کا باقی دنیا کی مجالس سے ایک امتیاز دکھا دیا گیا جہاں تمام قوانین کے امور بھی ان کی مجالس شوری ہی طے کرتی ہے اور Elected Bodies خواہ وہ کسی طریق پر منتخب ہوئی ہوں یعنی ڈیما کریسی کے ذریعہ جو قانون کا گھر بنایا جاتا ہے۔اس کو اختیار ہوتا ہے کہ ہر قسم کے قوانین بھی وہ خود بنائے مگر مسلمانوں کی شوریٰ میں قانون سازی کا کوئی موقع نہیں نہ اس کا ذکر ممکن ہے کیونکہ خدا صاحب امر ہے اس نے قانون جاری فرما دیئے ہیں لیکن چونکہ دو بنیادی ستون ہیں ہر مجلس شوری کے خواہ اس کا نام مجلس شوریٰ ہو یا پارلیمنٹ رکھا جائے اول قانون سازی عمومی معاملات سے تعلق رکھنے والی اور سب سے اہم بات بجٹ ہے۔بجٹ بنانا تمام سال ان کی مجالس کی دلچسپیوں میں سب سے اہم واقعہ ہوتا ہے اور بجٹ کے اجلاس کو سب دنیا کے ملکوں کے اخبار اپنے اپنے دائرے میں اچھالتے ہیں۔ریڈیو، ٹیلی ویژن بھی آج کل تبصروں میں لگ جاتے ہیں جبکہ روز مرہ کے قانون سازی کے امور ہیں ان کو اتنی اہمیت نہیں