خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد 14 208 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء انسان کے بس میں ہے کہ اگر وہ کوشش کرے اور اخلاص سے کوشش کرے تو خدا کی نظر میں وہ ایسے مرتبے تک پہنچا ہوا شمار ہو جائے۔یعنی یہ یوں نہیں کہنا چاہئے کہ بس میں ہے، امکان میں ہے، ہر شخص کے لئے امکان ہے اس بات کا کہ اس بات کو سمجھنے کے بعد جو میں بیان کر رہا ہوں یا آئندہ کروں گا وہ خدا کی نظر میں اس حد تک آجائے کہ پھر اللہ اس کا ہاتھ وہاں سے پکڑے اور باقی باتیں اسے خود سمجھائے اور حسب توفیق سمجھائے ، حسب ضرورت سمجھائے۔ہر شخص خدا سے تعلق رکھنے کی جو استطاعتیں لے کر پیدا ہوا ہے، جو اس کی وسعتیں ہیں ان کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور وہی ہے جو سمجھا سکتا ہے۔پس میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا تعارف کرواؤں قرآن کے حوالے سے بالضرور جو آپ سب کے لئے کافی ہو جائے۔میں اس ارادے سے یہ مضمون بیان کر رہا ہوں کہ وہ طریق سکھاؤں جس طریق سے آپ سب پر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا وہ رستہ حاصل کرنے کا راز مل جائے یا آپ سب کو وہ راز حاصل ہو جائے جس کے بعد خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ پھر میں خود ہاتھ پکڑتا ہوں اور باقی منازل میں خود طے کرواتا ہوں۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) العنکبوت : 70) وہ لوگ جو ہمارے بارے میں مجاہدہ کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں اور ہم تک تو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا از خود، جب تک ہم کسی کا ہاتھ نہ پکڑیں تو فرماتا ہے لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا نہ صرف یہ کہ اہم اسے رستہ دکھا سکتے ہیں بلکہ ہم نے اپنی ذات پر لازم کر لیا ہے لَنَهْدِيَنَّهُم ضرور ہے ہم پر لازم ہے ہم پر ضرور ایسے شخص کو اپنی ذات کا رستہ دکھائیں گے۔اب یہ جو بات ہے ہر شخص کو اپنی ذات کا رستہ دکھا دینا یہ اک اتنی عظیم نعمت ہے کہ دوسرے سے سیکھے ہوئے علوم کے مقابل پر اس کا ایک اپنا مرتبہ ہے جس کو دوسری بات پہنچ ہی نہیں سکتی یعنی بڑے سے بڑا عرفان کسی کو نصیب ہو جائے وہ کسی کو بتائے اس کا لطف بھی آئے گا لیکن کبھی اپنے دل سے جس طرح پھول چنکتا ہے یا کلی چٹک کے پھول بنتی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے فضل کے طور پر کوئی نکتہ نازل ہواور وہ جو سمجھ آئے اس کا اپنا ایک مزہ ہے۔بچے تو اپنی میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے جلی ہوئی روٹیوں سے بھی مزے لیتے ہیں اور خوب شوق سے کھاتے ہیں۔دوسروں کو بھی چکھانے کی کوشش کرتے ہیں دیکھو کتنی اچھی روٹی پکائی ہے۔سالن ایسا جسے اگر کوئی ماں نے پکایا ہوتا تو بچے