خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد 14 209 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء پھینک کر باہر بھاگ جاتے ، بڑے شوق سے کہ کیسا اچھا سالن پکا ہے اپنا نکتہ، اپنی چیز اور ہوتی ہے۔اپنی بھونڈی سی تصویر بھی بچے نے بنائی ہو تو بعض دفعہ میرے پاس لے آتے ہیں کہ دیکھیں جی کیسی عمدہ تصویر بنائی ہے۔وہ الٹی سیدھی تصویریں نہ رنگوں کی آمیزش نہ کچھ اور بہت خوبصورت دوسری تصویروں پر نظر ہی نہیں پڑتی۔تو اللہ سے ذاتی تعلق قائم کرنے کی خاطر یہ بات ضروری ہے محض عرفان الہی کافی نہیں ہے اگر اس عرفان کے ذریعے بندے کا اللہ سے تعلق قائم نہ ہو۔پس آئندہ بھی جو خطبات آئیں گے یہ محض علمی بحث کے طور پر میں آپ کے سامنے نہیں رکھ رہا بلکہ وہ مضمون جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر روشن فرمایا اس کے آگے بڑھتے ہوئے رستے ہیں۔مراد یہ ہے کہ مخلوق کا خالق سے وہ تعلق قائم ہو جائے کہ ہر شخص براہ راست اپنے رب کے قریب پہنچے اور ذاتی محبت کے لطف اٹھانے لگے۔عرفان سے محبت پیدا ہوتی ہے مگر عرفان وہ جو انسان کو خود نصیب ہو ورنہ بڑے بڑے علماء جنہوں نے تمام بڑی بڑی کو تفاسیر کے بڑے مطالعے کئے ہیں اور ان کے دل خالی ہیں یہ محبت کا مضمون ایک بخیر مضمون ہے اور یہ سارے مضمون کی جان ہے، اسماء کے مضمون کی اس لئے یہ آئندہ انشاء اللہ اب تو وقت تو زیادہ ہو گیا ہے آئندہ خطبے میں رفتہ رفتہ ، قدم قدم ، اس مضمون میں آپ کو ساتھ لے کر آگے بڑھوں گا اور یہ جو وقت لگ رہا ہے سمجھانے پر یہ مجبوری ہے اس کے بغیر آپ اگلے سبق سیکھ نہیں سکیں گے۔اس لئے اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک چھوٹی سی بات پر زیادہ زور دیا جارہا ہے تو غلط نہی ہے آپ کی۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جو چھوٹی چھوٹی بھی ہیں تو ان کے سمجھنے کے لئے کچھ وقت چاہئے۔ان کو پوری طرح Grasp کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی۔اس لئے مجھے جب ایک دفعہ داخل ہوا ہوں تو پھر سمجھانا ہی پڑے گا انشاء اللہ اور اللہ سے ہمیشہ میں توفیق مانگ کے حاضر ہوتا ہوں ، واپس جا کے بھی توفیق مانگتا ہوں، آپ بھی میرے لئے دعا کریں کہ وہ جو میرے نزدیک آخری مطمع ہے کہ احمدی اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں خدا ان کا ہاتھ تھام لے اور پھر اپنی سیر خود کروائے اور وہ جو لطف ہیں وہ جماعت کی کایا پلٹ دیں گے، اتنا عظیم انقلاب برپا ہو جائے گا کہ اس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین