خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 207

خطبات طاہر جلد 14 207 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء قائم بھی فی الذات ہے، بذاتہ اپنی ذات کے اندر قائم ہے اور دوسروں کو بھی قائم کر سکتا ہے۔زندہ ہے فی ذاتہ اور دوسروں کو زندگی عطا فرما سکتا ہے۔یہ جو چار صفات بیان ہوئی ہیں یہ دراصل تمام صفات باری تعالیٰ پر حاوی ہیں اور انسان اور مخلوق کے تعلق میں اسے سمجھنے سمجھانے کے لئے یہ دوسری آیت الْحَيُّ الْقَيُّومُ بیان فرمائی گئی حالانکہ پہلی آیت میں بھی تمام صفات کی ماں بیان فرما دی گئی یعنی الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ پہلے اللہ وَالهُكُمْ الهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم تمہارا ایک ہی معبود ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں یعنی اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وہ رحمان اور رحیم ہے۔رحمان اور رحیم کے متعلق میں نے بیان کیا تھا کہ ہر تخلیق سے پہلے رحمانیت اور رحیمیت جلوہ گر ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی ایک سورۃ سے پہلے جو استثنائی وجہ ہے ہر سورۃ سے پہلے رحمان اور رحیم کا ذکر ہے۔جس کا مطلب ہے کہ تمام صفات باری تعالیٰ تمام اسماء باری تعالیٰ جن کا قرآن میں ذکر ہے ان کا منبع رحمان اور رحیم ہے اور اسی پہلو سے رحمانیت کو ہر دوسری صفت پر غالب قرار دیا گیا اور رحیمیت ، رحمانیت ہی کا ایک انداز ہے جسے بعض دوسرے پہلوؤں پر زور دینے کے لئے انہیں نمایاں کرنے کے لئے بیان فرمایا گیا ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے بھی اسم اعظم وہ قرار دیا جس کے اندر تمام دوسرے نام شامل ہیں ایک بھی اس سے باہر نہیں ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق مزید غور کی دعوت دینے کے لئے کچھ وقت چاہئے۔میں انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں یا اس کے آئندہ بعد آنے والے جمعہ میں آپ کو سمجھاؤں گا کیونکہ صفات باری تعالیٰ یا بہتر الفاظ میں اسماء باری تعالیٰ کے مضمون پر غور کی دعوت دینا اور یہ نہ سمجھانا کہ کیسے غور کیا جائے ، یہ زیادتی ہوگی۔اب جب مضمون چھیڑا ہے تو میں کوشش یہ کروں گا کہ ہر علمی سطح پر کچھ نہ کچھ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہو اور تمام دنیا میں جو سننے والے ہیں ان کے اوپر علم کی کچھ کھڑکیاں کھلیں جس کے ذریعے وہ اپنی اپنی توفیق کے مطابق اللہ تعالیٰ سے تعلق باندھیں۔اس کے لئے عربی کا تفصیلی علم ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم تو سب کے لئے ہے۔تفصیلی علم تو ضروری نہیں مگر جہاں صفات باری تعالیٰ یا اسماء کا ذکر آئے گا وہاں اس حد تک عربی کا علم لازمی ہے اور اگر براہ راست کسی کو نہ ہوتو وہ علماء سے پوچھ سکتا ہے یا کتب سے ان مضامین کو سمجھ سکتا ہے لیکن جو بنیادی ضرورت ہے یہ پوری ہو جائے تو پھر