خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد 14 15 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء ہے، پھر ہندوستان ہے۔ہندوستان نے بھی اچھا معیاری کام دکھایا ہے اور گزشتہ سال کے مقابل پر بہت محنت کر کے کافی آگے بڑھا ہے۔پھر سوئٹزرلینڈ کی چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود اس کی باری ہے جو ساتویں نمبر پر ہے۔انڈونیشیا نے وقف جدید میں بہت ترقی کی ہے آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے۔ماریشس نویں نمبر پر ہے اور جاپان دسویں نمبر پر ہے۔جاپان کی اس پہ کوئی دل آزاری نہیں ہوئی چاہیئے۔بہت چھوٹی سی جماعت ہے اور ان کے اقتصادی حالات کچھ اس لئے بھی خراب ہور ہے ہیں کہ بہت سے لوگ جو پاکستان سے وہاں کام کر رہے ہیں ان کے لئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں کچھ کو واپس بھجوا دیا گیا کچھ کو پولیس کی تحویل میں رکھا گیا۔کچھ اقتصادی بحران کے نتیجے میں نقصان اٹھا بیٹھے۔تو ان کا چھوٹی سی جماعت کا دسویں نمبر پر رہنا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بڑا اعزاز ہے اللہ اس اعزاز کو قائم رکھے اور اس کی برکت سے ان کے اموال میں بھی ترقیات ہوں ان کی خوشیوں میں بھی ترقیات اور سب کے لئے میری یہی دعا ہے۔جہاں تک دوسری جماعتوں کا تعلق ہے جو عموماً چھوٹی تھیں اور پیچھے رہ رہی تھیں ان میں اس طرح موازنہ میں نے کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابل پر غیر معمولی اضافہ پیش کرنے کی کس کو توفیق ملی ہے کیونکہ عام دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتی تھیں اس لحاظ سے گیانا کی جماعت اول آئی ہے اور انہوں نے اس ایک سال میں چندہ دگنے سے بھی زیادہ کر دیا ہے۔بنگلہ دیش نے بہت آگے قدم بڑھایا ہے انہوں نے بھی گیارہ سو کی بجائے دو ہزار تریسٹھ۔معاف کرنا یہ چندے کی بات نہیں ہورہی۔چندہ دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ۔میں نے عنوان نہیں پڑھا تھا اس لئے جب میں نے یہ پڑھا تو میں نے کہا کہ گیارہ سو ہو سکتا ہے بنگلہ دیش کا تو بہت زیادہ چندہ ہوگا اس سے۔تو جب اعنوان دیکھا تو عنوان یہ ہے ” چندہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ اس پہلو سے گیا نا اضافہ کی نسبت سے اول آگیا ہے اور بنگلہ دیش کو دوئم قرار دیا ہے گیارہ سو کے بدلے میں دو ہزار تریسٹھ ہے، دگنے سے کم ہے اور گیا ناد گنے سے ذرا زیادہ ہے۔ہالینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔ایک سوافراد سے بڑھ کر دوسو انچاس ہو گئے۔کینیڈا چوتھے نمبر پر ہے تین ہزار پینتالیس مجاہدین سے تعداد بڑھا کر چار ہزار چارسواکنتیس ہوگئی اور جرمنی پانچویں نمبر پر ہے پانچ ہزار چھ سو تینتیس سے بڑھ کر آٹھ ہزار ایک سو چورانوے کی تعداد پہنچ گئی ہے۔