خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد 14 16 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء یہ جو تعداد کا مسئلہ ہے اس کا تعلق مال سے اتنا نہیں جتنا قربانی کی روح کو فروغ دینے کے لئے ہم اس پر زور دیتے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ بعض دفعہ زیادہ تعداد بڑھائی جائے تو اس تعداد کے حساب میں بعض دفعہ خرچ زیادہ ہوتا ہے اور اس سے آمد کم ہوتی ہے۔مثلاً ایک پورا نظام کیا جائے ان کا حساب رکھا جائے کلرک رکھے جائیں پھر ڈاک کے ذریعے ان کے حساب بھیجے جائیں اور چندے بعض دفعہ اتنے تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیں بعض غریبوں کے کہ مالی حساب پر زیادہ خرچ ہو رہا ہوتا ہے ان کی آمد کے مقابل پر۔لیکن ہمیں ضرورت ہے اخلاص کی اور مالی قربانی کے بغیر اخلاص بڑھتا نہیں ہے اور مالی قربانی کو اللہ نے تقویٰ کا ایک پیمانہ قرار دیا ہے اور پھر لمبا تجربہ بتاتا ہے کہ شروع میں جو ایک پیسہ بھی قربانی کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کو دو طرح سے بڑھاتا ہے۔تُضْحِفْهُ کا مطلب یہ صرف نہیں ہے کہ مال اس کا بڑھاتا ہے۔اس کے دل کی وسعتیں بڑھا دیتا ہے، قربانی کے جذبے بڑھا دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت میں ایک نئی ترقی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔پس اس دفعہ بھی میں تمام دنیا کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ کتنا ہی معمولی چندہ کیوں نہ ہو، میں پچھلے سال بھی اعلان کر چکا ہوں کہ یہ شرط چھوڑ دیں کہ چھ روپے کم سے کم یا بارہ روپے کم سے کم یا اس کے لگ بھگ دوسری کرنسیوں میں رقم ہوا اگر کوئی ایک آنہ بھی دے سکتا ہو تو اس کو کہیں شامل ہو جائے۔اس کا شامل ہونا اس کی مالی دقتوں کا حل ہے اور اس کو یہ نہیں کہنا کہ تمہارا پیسہ بڑھے گا اس لئے شامل ہو جاؤ اس کو یہی کہنا ہے کہ تم آنہ بھی دو گے تو جو تمہیں لطف آئے گا اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی وہ تو کروڑوں روپے خرچ کر کے حاصل کی جائے تو کچھ بھی چیز نہیں۔اس لئے قربانی کے جذبے کی خاطر اس سے ایک آنہ بھی وصول کرنا ہو تو کریں اور نو مبائعین کو کثرت کے ساتھ اس میں شامل کریں۔اب وقت ہے کہ نو مبائعین جس تعداد سے بڑھ رہے ہیں اسی تعداد سے چندہ دہندگان بھی بڑھیں۔پس ان کو مستقل چندے میں بھی سولہویں حصے کی نسبت سے نہیں بلکہ حسب توفیق اور یہ مضمون بھی مَا اسْتَطَعْتُم سے مجھے ملا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنی استطاعت ہے تو نئے آنے والوں کی استطاعت کچھ کم ہوتی ہے۔بعض دفعہ بہت بڑھ جاتی ہے ایسے بھی آئے ہیں جنہوں نے آتے ہی فوراً قربانیوں میں حصہ لیا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم