خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد 14 14 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء حضور ایسے سجدے کرتی ہے کہ سجدے سے سر اٹھانے کو جی نہ چاہے سوائے اس کے کہ مجبوریاں دوسرے کاموں میں لے جائیں مگر ایک ایک شکر اللہ کا ایسا ہے کہ اس میں ساری روح ہمیشہ سجدہ ریز رہے تو اس کے نشے سے باہر نہیں آسکتی۔مواز نے کے طور پر چند اور باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔گزشتہ سال یعنی جو اس سال سے پہلا سال تھا وعدہ جات 2 کروڑ 26 لاکھ تھے اور وصولی دو کروڑ اڑتالیس لاکھ تریسٹھ ہزار ہوئی۔امسال جو گزر گیا ہے یعنی امسال سے مراد وہ سال جو ابھی گزرا ہے دوکروڑ اکتالیس کے وعدے تھے دو کروڑ تریسٹھ لاکھ کی وصولی ہوئی۔اب یہ اللہ کی عجیب شان ہے کہ وقف جدید کی وصولیاں اس کے وعدوں سے بڑھ رہی ہیں۔E سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا قربانی کرنے والا دم جو ہے وہ سینے سے باہر نکلتا ہے ، اچھل اچھل کے باہر آ رہا ہے اور تفصیلی جہاں تک تعلق ہے اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے امسال بھی جماعت پاکستام کو یہ اعزاز نصیب ہوا ہے کہ سب دنیا کے وقف جدید کے قربانی کرنے والوں کے مقابل پر پاکستان نے سب سے زیادہ قربانی کی ہے۔دوسرے نمبر پر امریکہ نے اپنے اس عہد کو پورا بھی کیا اور نبھایا ہوا ہے۔امیر صاحب امریکہ نے مجھ سے ایک دفعہ ذکر فرمایا تھا کہ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کسی چندے میں بہت آگے بڑھیں اور سب سے آگے نکل جائیں تو ہم نے غور کیا ہے تو یہی سوچا ہے کہ باقی جگہ تو بہت بہت فاصلے رہ گئے ہیں وقف جدید میں اگر ہم کوشش کریں تو ایسا ہو سکتا ہے۔چنانچہ ایک وقت تھا کہ وہ کسی شمار میں ہی نہیں تھے اب وہ دوسرے نمبر پر آچکے ہیں اور گزشتہ سال بھی تھے اور پوزیشن کو Maintain کر رہے ہیں یہاں وہ قائم ہیں اور فاصلہ بھی کچھ کم کر رہے ہیں پاکستان سے۔اس لئے بعد میں نہ پاکستان والے کہیں ہمیں بتایا نہیں تھا پہلے۔جس طرح جرمنی کی دفعہ شکوے شروع ہو گئے تھے کہ آپ نے اچھا کیا چپ کر کے بتادیا کہ جرمنی آگے بڑھ گیا ہے اور ہم نے نہیں بڑھنے دیا۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ پاکستان کا یہ اعزاز برقراررہے گا امریکہ نے کوشش ضرور کرنی ہے۔جرمنی بہت سی قربانی کے میدانوں میں یا دوسری یا تیسری پوزیشن پر رہتا ہے کبھی کبھی اول بھی آجاتا ہے اور یہاں بھی تیسری حیثیت ہے۔اس کے بعد پھر کینیڈا ہے، پھر برطانیہ کی باری آتی