خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد 14 190 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء صلى الله ہیں اس پہ اور بھی میں نے غور کیا۔اس حدیث کے اندر، اس کے طرز بیان میں کچھ ایسے رخنے پائے جاتے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام پوری طرح یہ نہیں ہوسکتا اس کے اندر دلائل موجود ہیں لیکن جب میں وہ مزید اور باتیں کچھ دریافت کروں ،غور کرلوں پھر انشاء اللہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔تو اب اتنا میں بتاتا ہوں کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے متعلق جو ان کو خیال گزرا ہے، ٹھیک خیال گزرا ہے۔بظاہر زمانے کے ساتھ تعلق ہے مگر ان دو معنوں میں دراصل اس کا زمانے کے ساتھ تعلق ہونا خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات سے منافی نہیں ہے کیونکہ ایک تعریف جو ہم نے بیان کی یہ مطلب تو نہیں کہ وہ لازماً خدا اس تعریف کا پابند ہی ہو گیا ہے۔وہ تعریف ایک حد تک خدا کی ذات پر صادق آتی ہے اور اسی حد تک صادق آتی ہے جس حد تک اس کی سبحانیت کو زخمی نہیں کرتی۔کوئی تعریف خدا تعالیٰ کی ذات پر صادق نہیں آسکتی جو اس کے سبحان ہونے کے منافی ہو اور جہاں حمد پائی جائے اور تعریف سے مراد ہے Definition جہاں غلطی کوئی نہیں ہے ،خدا کی ذات پر کوئی داغ نہیں ڈالنے والی اور حمد کے مضمون کو بیان کرنے والی ہے وہ لازماً درست ہے اسی حد تک اطلاق پائے گی۔پس زمانہ اگر ان معنوں میں بھی نہ پایا جائے کہ مخلوق کو زمانہ عطا کر دیا اور ان زمانوں سے مستغنی ہو گیا اور ان زمانوں کے مطابق اس کے اقتضاء کو پورا ہی نہیں کر رہا تو یہ زمانہ نہ پایا جانا نہ اس کی از لیست کی نشانی ہے نہ اس کی ہدایت کی بلکہ نعوذ باللہ من ذالک ایک قسم کی بے رخی اور موت کی دلالت ہے۔پس جہاں جہاں زمانہ کے تصور میں کوئی ناقص معنی ہیں ان سارے تصورات زمانہ سے اللہ متقی ہے اور بالا ہے۔جہاں زمانہ کا کوئی تصور خدا کی ذات میں پایا جانا اس کی تسبیح کرتا ہے اور اس کی حمد بیان کرتا ہے وہ زمانے کا تصور لازماً اللہ تعالیٰ کی ذات میں پایا جاتا ہے۔پس یہ بھی اس رویا کا حصہ ہے، یہ سوچ جو میں نے عرض کی تھی کہ وہ پھوٹی ہے اس سے اور پھر رویا کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ چشمے کی طرح جاری ہو گئی اور بہت سے ایسے مضامین ہیں اور جو اس میں بیان کرنے والے ہیں۔- مجھے گزشتہ خطبے کے بعد جب لوگوں نے یہ بتایا کہ اوپر سے گزرگیا ہے اور وغیرہ وغیرہ تو گھبرا