خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد 14 189 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء کر دی جائیں گی یہ اس طرح ظاہر ہوا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر سے میں نے سمجھا کہ تمام دوسرے نبیوں کے فیوض کے چشمے ختم کر دیئے گئے۔ایک ہی چشمہ جاری رہا۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيكَ رَفِيقًان (النساء: 70) کہ اب وہ بات نہیں کہ ہر چشمے سے جہاں سے تم چاہو فیض اٹھاتے پھرو۔اب یہ قانون جاری ہوا ہے کہ جو اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا۔فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ یہی وہ لوگ ہوں گے جو انعام یافتہ گروہ میں شامل ہوں گے۔یعنی منَ النَّبِينَ نبیوں میں سے، صدیقوں میں سے شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے۔تو مالکیت کا جلوہ دیکھیں ظاہر ہو چکا ہے۔کون اس جلوے سے آنکھیں بند کر سکتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ نے روحانی طور پر یہ علم عطا فرمایا کہ نبیوں میں محمد رسول اللہ کے مالک ہیں اور کوئی نبی مالک نہیں ہے کیونکہ مالک وہ ہو سکتا ہے جو باقی سب کو بے فیض کر کے ساری طاقتیں اپنی ذات میں اکٹھی کرلے اور یہ توفیق اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائی ہے اور آپ کی ذات میں جلوہ گر ہوئی ہے۔اس کے بعد آپ بتائیں کہ جزوی فضیلت آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اس بات کو۔یعنی محمد رسول اللہ اللہ اس وقت خدا تعالیٰ کی مالکیت کے جلوہ کا مظہر نہیں بنیں گے ،موسیٰ بن جائے گا۔اس سے سب کچھ واپس نہیں لیا جائے گا۔پس وہ جو اس دنیا میں مالک سچ ثابت ہو چکا ہے اس کو قیامت کے دن اس مالکیت سے محروم کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہوسکتا۔علماء چاہے بخاری کی حدیثیں پیش کریں یا اور بھی جو کچھ لے کے آتا ہے انہوں نے لا ئیں۔قرآن کریم کے اس مضمون سے جو سورۃ فاتحہ سے بھی ثابت ہے ، دوسری آیات سے بھی ثابت ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے اس فتوے کے بعد جو اللہ سے علم پا کر آپ نے مالکیت کا مضمون بیان فرمایا ہے، اس کے بعد ایک لمحے کے لئے بھی میرا دل یہ گوارا کر ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے کہ حضرت موسیٰ کو تو میں اس الله زمانے میں مالکیت کے جلوے کا حصہ دار اور اس میں شامل سمجھوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کو ایسا الگ سمجھوں کہ تمام صفات سے آپ کو محروم کر دیا گیا گویا آپ مالک نہ رہے۔تو ضرور اس میں اور باتیں