خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 191
خطبات طاہر جلد 14 191 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء کر میں نے کہا کہ پھر کیا فائدہ ان بے چاروں کو تنگ کرنے کا۔جب بات ہی نہیں سمجھیں گے تو بعد میں کسی کتاب کی صورت میں پیش کر دیں گے لیکن ایک شخص نے ایک بہت دلچسپ بات کہی اور اس کا شعر تو وہ نہیں پڑھا مگر مضمون یہی تھا بہرہ ہوں میں چاہئے دونا ہو التفات سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر (دیوان غالب : ۱۱۱) کہ ٹھیک ہے ہم بہرے ہیں مگر بہروں کو چھوڑ تو نہیں دیا کرتے اونچی بولا کرتے ہیں، بار بار بولا کرتے ہیں۔تو آپ کچھ اونچی بولیں ، کچھ سمجھانے کی کوشش کریں بجائے اس کے کہ دس خطبوں کی بجائے ایک خطبے میں بات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیں، ایک خطبے کی بجائے دس خطبوں میں بات کرنے کا فیصلہ کریں۔تو پھر ہمیں امید ہے کہ ہم انشاء اللہ اس مضمون سے فیض پائیں گے تو وہ بات میرے دل کو لگ گئی اس لئے آج بجائے اس کے کہ میں جلدی جلدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حوالے پڑھ کر آپ کے سامنے اس مضمون کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ، اب اللہ کے حوالے ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ توفیق بخشے گا وہ چیز ، وہ سلسلہ خیالات یا حقائق کی جستجو کا جو سلسلہ تھا جو اس رویا سے پھوٹا جس کو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیر معمولی رہنمائی کرنے والی رویا تھی اس میں میں اکیلا شامل نہیں رہوں گا بلکہ انشاء اللہ حسب توفیق آپ کو بھی شامل کرتا رہوں گا۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جو خود پھوٹ رہا تھا جہاں کہیں اٹکا، بعض دفعہ ایک ایک دو دو دن انکار ہا اور بات نہیں کھلی تو جب میں نے دعا کی تو فوراً اس کا جواب مل گیا اور پھر وہ بات چل پڑی۔تو جو باقی سلسلہ ہے وہ بھی دعا کے سہارے جاری ہے اور انشاء اللہ اس کی ضرورت بھی میں محسوس کرتا ہوں۔یہ وقت ایسا ہے، یہ دور کہ ہمیں لازماً صفات باری تعالیٰ کے مضمون پر گہرے غور کی ضرورت ہے بعض لوگوں نے مجھے لکھا کہ ہم غور شروع کر چکے ہیں۔جامعہ احمدیہ کے پرنسپل میر محمود احمد صاحب ناصر نے بھی اپنے طلباء سے پوچھا کیوں جی غور شروع ہو گیا۔اس سے مجھے خیال آیا کہ کس طرح غور کریں گے خود بخود سبحان الله وبحمده ربنا اللهم صل على محمد یہ ایسی باتیں کہیں گے ضرور مگر اس کو غور نہیں کہتے۔یہ مضامین گہرے ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے جب تک روشنی نہ دکھائی جائے اور قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود کی