خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد 14 161 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ذات میں تبدیلی نہ پائی جائے ، وہ زمانے سے آزاد ہے لیکن وہ وجود جب تخلیق کرتا ہے تو مخلوق کے حوالے سے ایک زمانے کا تصور پیدا ہو جاتا ہے لیکن اس کی ذات میں تبدیلی نہیں آتی۔یہ وہ مضمون ہے جو قدیم سے فلسفیوں کے زیر نظر بھی رہا ہے اور فلسفیوں کی دنیا میں میرے نزدیک سب سے عظیم فلسفی جو آج تک مذہبی دنیا سے باہر پیدا ہوا ہے وہ ارسطو ہے جو افلاطون کا شاگرد تھا اور یہ سکندراعظم کا استاد بھی رہا ہے۔افلاطون کی اکیڈیمی میں کچھ دیر پڑھتا رہا۔جب یہ چھپیں سال کا تھا تو افلاطون فوت ہو گیا اور اس کے بعد اس نے اکیڈیمی سے اپنا تعلق تو ڑلیا کیونکہ اس کی سوچیں بہت ہی زیادہ منجھی ہوئی اور اس زمانے سے بہت آگے تھیں جس زمانے میں یہ پیدا ہوا ہے۔مگر میں ضمناً اس کا اس لئے ذکر کر رہا ہوں۔یہ وجہ نہیں کہ تمام فلسفہ جو خدا کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اس فلسفے کے اوپر آپ سے گفتگو کروں کیونکہ اتنا بڑا مضمون ہے کہ ضرورت ہے کہ اس کے اوپر اس مضمون کی حیثیت سے الگ غور و فکر کر کے اس کے ماحصل سے جماعت کو مطلع کیا جائے۔لیکن یہ تقریروں میں بیان ہونے والا مضمون بھی نہیں ہے۔نہ خطبات میں بیان کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھاری اکثریت جماعت کی جو خطبات اور تقریروں کو سنتی ہے وہ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اور علم کے اعتبار سے اس قسم کے مضامین کو ساتھ ساتھ ہضم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔اس لئے اس کا تعلق تحریر سے ہے اور ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ہر چیز بیان سے ہی تعلق رکھے۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیان بھی سکھایا اور کلام بھی سکھایا اور عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (العلق :5) اور قلم سے بھی سکھایا ہے تو جو باتیں قلم سے سکھانے والی ہیں۔اللہ نے توفیق عطا فرمائی اور ، دعا کرتا ہوں کہ مجھے سعادت ملے اور وقت ملا اور سعادت ملی تو آئندہ اسی مضمون کو خالصہ خدا کے تعلق میں جماعت کے سامنے پیش کروں گا انشاء اللہ۔یہاں صرف ضمنی طور پر بتانا ضروری تھا کہ ارسطو آغاز میں معلوم ہوتا تھا کہ افلاطون کے مقابل پر کم روحانیت رکھتا ہے اور خدا کے تصور میں اس سے پیچھے ہے ، بعض دفعہ خدا کے تصور کے برعکس اس کے فلسفے میں حوالے ملتے ہیں لیکن جتنا وہ بڑا ہوا ہے اور جوں جوں اس نے زیادہ غور کیا فلسفے کے نقطہ نگاہ سے سب سے قریب خدا کے وہ پہنچا ہے اور خالصۂ فلسفے کے ذریعے، اہل تجربہ نہیں تھا۔اس لئے اسے اس حد تک تو علم ہو گیا کہ ہوسکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ہو لیکن اس سے تعلق کا جہاں تک معاملہ ہے اس کا کوئی اشارہ بھی ارسطو کی