خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد 14 160 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء چیز وجود میں نہیں ہوتی اور یہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان کا آغاز بھی اسی مضمون کو بیان فرما رہا ہے۔بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وہ ہے جس سے زمین و آسمان کی پیدائش کا آغاز ہوا ہے۔بدع، ایسے آغا ز کو کہتے ہیں جس کو عرف عام میں ہم خلق کا نام دے لیتے ہیں مگر حقیقت میں قرآنی اصطلاح میں بدع اور خلق میں ایک فرق ہے۔بدع ایسی چیز کو کہتے ہیں جس کا کوئی وجود نہ ہو اور خلق اس چیز کو کہتے ہیں کہ ادنیٰ حالت میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو جائیں یا کر دی جائیں اور نئی نئی صورتوں میں وہ چیز ظاہر ہونا شروع ہو جائے۔مثلاً کیمیکلز ہیں۔کیمیکلز کے آپس میں ملانے سے اور ان کے آپس میں ادلنے بدلنے سے، ان کے فارمولے بدلنے سے نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں اور ایک پوری شاخ ہے سنتھیٹک کیمسٹری کی جو صرف اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہے کہ ایسی کیمیا بنائی جائیں جن کا پہلے کوئی وجود نہیں تھا مگر کیمیا سے وہ کیمیا بنتی ہے عدم سے نہیں بنتی۔اس لئے اس کے اوپر بدع کا لفظ نہیں آتا اس کے اوپر خلق کا لفظ آتا ہے اور ضمنی طور پر اور محدود دائرے میں اللہ تعالیٰ بھی انسان کی خلق کا ذکر فرماتا ہے کہ تم جو خلق کرتے ہو اس کے اور بھی معنی ہیں، ایک یہ بھی معنی ہے ، خدا کی خلق تم سے بہت زیادہ عظمت رکھتی ہے ، بہت بڑی ہے، تمہاری خلق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔بہر حال یہ تو واضح مضمون ہے اس میں غالباً کسی پہلو سے بھی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف محض خلق منسوب نہیں ہوتی ، بدع بھی منسوب ہوتی ہے۔یعنی جب کچھ بھی نہیں تھا ایسی چیزیں اس نے بنائیں جن کا اس سے پہلے وجود نہیں تھا اور زمانے کی تعریف اس پہلو سے ہر مضمون پر صادق آتی ہے لیکن مخلوق کی بدع پر بھی ثابت آتی ہے اور تخلیق پر بھی ثابت آتی ہے نسبتا اور معنوں میں۔بدع اس لحاظ سے کہ ایک چیز ایسی پیدا ہوئی جس کا کوئی آغاز ، اس آغاز سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا اور خلق اس لحاظ سے کہ تبدیلیاں ایسی حیرت انگیز ہوئی ہیں کہ نئی سے نئی چیز اس سے پیدا ہونی شروع ہوگئی اور مسلسل Synthesis ہو رہا ہے اور یہ دونوں باتیں خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ کائنات میں مسلسل دکھائی دے رہی ہیں آغاز سے لے کر آج تک یہی جاری ہے۔تو یہ وہ تعریف ہے جو بہت اہمیت رکھتی ہے کہ نہ اس کا آغاز ہو۔وہ ذات جس کا آغاز نہ ہو انجام نہ ہو۔جس کے اندر