خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد 14 162 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء کتابوں میں نہیں ملتا کہ اس نے ایک زندہ ایسے خدا سے تعلق قائم کیا ہو جو انسان سے تعلق کے بعد اس پر اپنی رحمتوں کے یا اپنی شان کے جلوے دکھاتا ہو۔اسی وجہ سے بعض فلسفیوں نے ارسطو کے متعلق یعنی ماڈرن آج کل کے جدید فلسفیوں اور سائنس دانوں نے بھی ارسطو کو اسی بریکٹ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے جس میں جدید زمانے میں Spynoza کا نام لیا جاتا ہے جو ہالینڈ کا ایک یہودی فلسفی تھا۔اس نے بھی خدا کو ایک تصور کے طور پر پیش کیا ہے۔اس حد تک معلوم ہوتا ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ ایسا وجود ہونا چاہئے لیکن ہے کہ نہیں اس سے تعلق قائم ہوسکتا ہے کہ نہیں۔نہ صرف یہ کہ یہ ذکر نہیں ملتا بلکہ وہ اس کی نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ وہ وجود ہے جو تفصیلی دلچسپی نہیں لیتا اور نہ لے سکتا ہے ان کے نزدیک۔پس ایک طرف خدا کو مانا دوسری طرف کا لعدم کر دیا۔یہی آئن سٹائن کا حال ہے مگر آئن سٹائن کی سوچ میں دیانت کی کمی ہے اور سپائنوزا کی سوچ میں دیانت کی کمی نہیں ہے۔جب میں آئندہ اس مضمون پر روشنی ڈالوں گا تو خصوصیت سے آئن سٹائن کا بھی ذکر کروں گا جس نے 1930ء میں نیویارک ٹربیون (New York Tribune) میں مذہب کے متعلق جو مضمون شائع کیا ہے اس میں خدا کی ہستی کے اور مذہب کے خلاف جو دلائل پیش کئے ہیں اور پھر اپنا نظریہ جو پیش کیا ہے وہ اتنا بودا ہے کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس زمانے کے دوسرے یورپین فلسفی خصوصاً انگریز فلسفیوں سے متاثر ہو کر اس نے کچھ باتیں بیان کی ہیں لیکن آدھی بات کرتا ہے اور پھر رخ بدل لیتا ہے۔جس سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں دیانت دار نہیں تھا کیونکہ اگر دیانتداری سے ان باتوں کو آگے بڑھاتا تو اس نتیجے تک پہنچنا ضروری ہو جاتا جو ارسطو کی عقل نے نکالا۔پس تھوڑا سا چلتا ہے اور پھر رخ بدل لیتا ہے مثلاً اسباب کا ذکر کرتا ہے اور ہر سبب کا ایک مسبب ہونا چاہئے۔اسباب جو ہیں دنیا میں، جو چیزیں وجود میں آرہی ہیں نتیجے ہیں، ان کا ایک نتیجہ پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔اس مضمون کو شروع کر کے تو پھر آغاز آفرینش کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف یہ اعتراض کرتا ہے کہ اس لئے ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ ایسا خدا ہو جو اس دنیا میں جو ہمیں سبب اور نتیجے کی دنیا نظر آرہی ہے اس میں کبھی کبھی نا معقول دخل دیتا رہے۔”میں ہوں“ کی خاطر، معجزے دکھانے کے شوق میں اس میں دخل اندازی کرے یہ عقل کے خلاف بات ہے اس لئے کوئی خدا ایسا نہیں ہے۔اب یہ سوچ صاف بتا رہی ہے کہ وہ جو منطقی نتیجہ نکلنا چاہئے تھا سبب اور نتیجے کا، اس کا آغاز