خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد 14 151 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء یا محدث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر وضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو۔“ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ: ۱۲۔حاشیہ ) جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرِكُ سَلْمٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ تو یہ دور ہے جو جزوی طور پر ہر نبی کے وقت ظاہر ہوتا ہے مگر اپنے درجہ کمال کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پہنچا اور تمام امور کو اس نے گھیرے میں لے لیا، کچھ بھی باقی نہیں رکھا اور لفظ سلام آپ ﷺ کی وحی کے ساتھ خاص بتارہا ہے جو دنیا میں کسی اور نبی کی وحی کے آغاز اور اس کی نوعیت کو بیان کرنے کے لئے استعمال نہیں ہوا۔کوئی ہے تو نکال کر دکھا ئیں۔تمام دنیا میں وحی کے نزول کا مضمون لازماً ملتا ہے کیونکہ کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے ہیں۔مگر شریعت کی نوعیت بیان کرنے کی خاطر لفظ سلام یعنی خدا کا اسم سلام، خدا کا نام سلام بیان کرتے ہوئے اس شریعت کا تعارف نہیں فرمایا گیا۔پس یہ جو سلام ہے یہ قیامت تک جاری وساری ہے اور فرشتے اس سلام کی تائید میں ہمیشہ نازل ہوتے رہیں گے مگر انسان اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ لیلۃ القدر کے لمحے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو ہر رمضان مبارک میں ہمارے لئے آسمان سے پھراتاری جاتی ہے۔تو دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ نے آسانیاں بھی فرما دی ہیں۔جو چیزیں ہماری پہنچ سے بہت بالا ہیں انہیں قریب تر فرما دیتا ہے۔سماء الدنیا میں اللہ کا نزول یا زمین پر آسمان سے اترنا یہ معنی تو نہیں ہے کہ خدا کوئی جسمانی وجود ہے جو اوپر سے جیسے سیڑھیاں اترتے ہیں یا کوئی چیز لٹکتے ہوئے نیچے آتی ہے اس طرح خدا اترتا ہے۔خدا تو ہر جگہ ہے اس کا نزول ہنزولِ صفاتی ہے۔وہ اپنی ذات کا تعارف کرانے کے لئے قریب تر آجاتا ہے اور جسے وہ لمحے نصیب ہو جائیں اس کی پھر ساری زندگی سلام سے بھر جاتی ہے۔