خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد 14 146 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء کہ میرے وہ بندے جو میرے ہو جاتے ہیں ربنا اللہ کہہ دیتے ہیں پھر استقامت دکھاتے ہیں۔ان پر ہمیشہ خدا کے فرشتے نازل ہوتے رہتے ہیں، ہوتے رہیں گے۔یہ کہتے ہوئے کہ کوئی خوف نہ کروہ کوئی غم نہ کھاؤ۔ہم آئے ہیں تو تمہیں چھوڑ کر جانے کے لئے نہیں۔نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ہم دنیا میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اوپر جس صبح کا طلوع ہوا ہے یا آپ ﷺ نے جس صبح کا طلوع فرمایا اللہ کے اذن کے ساتھ ، وہ صبح سلامتی کا دائمی پیغام لے کر آئی ہے۔پس سلامتی صبح تک ختم نہیں ہو جاتی بلکہ صبح کو سلامتی کا مضمون اپنے پائیہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔اس پہلو سے لفظ سلھ پر غور ہونا ضروری ہے کہ سلام کیا چیز ہے۔میں ضمناً یہ بتا دوں کہ یہ جو رات کو رمضان کی آخری راتوں میں سے لیلۃ القدر تلاش کی جاتی ہے یہ مضمون غلط نہیں ہے۔یہ جو میں مضمون بیان کر رہا ہوں اس سے متضاد نہیں ہے بلکہ احضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رات سے برکتیں پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ ان لمحات کو بار بار لاتا ہے جو ویسی ہی برکتیں رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک حیرت انگیز انکشاف فرمایا جوا کیلا ہی آپ کے غیر معمولی تعلق باللہ کے اوپر ایسی دلالت کرتا ہے کہ کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔آپ فرماتے ہیں کہ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ سے مراد یہ ہے کہ عام انسان کی زندگی اتنی 80 سال تک بھی پہنچ جائے وہ اس ایک لمحے کے اوپر قربان ہونے کے لائق ہے جو لیلۃ القدر کی رات کو خدا کے نور کا وہ لمحہ اس کو دکھائی دے جائے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر تمام عرصہ دراز رہے۔وہ لمحات جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر تمام عرصہ پھیلے رہے وہ آپ کی لیلتہ القدر کے لمحے تھے۔اللہ کا احسان ہے کہ ہر سال لیلۃ القدر کے نام پر جو رات طلوع ہوتی ہے اس میں وہ لمحے بھی شامل ہو جاتے ہیں جو برکتیں لے کر آتے ہیں ورنہ ہمیشہ کے لئے ہم ان برکتوں سے محروم رہ جاتے۔پس محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض پانے سے وہ قوم ، وہ مسلمان جو قیامت تک آپ کے وصال کے بعد محروم دکھائی دیتے ہیں ، ہر سال ایک رات ایسی آتی ہے جب ان دور والوں کو محمد رسول اللہ اللہ سے ملانے کے چند لمحے نصیب ہو جاتے ہیں۔وہ اگر کسی کومل جائیں تو مسیح موعود علیہ السلام فرماتے