خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 147
خطبات طاہر جلد 14 147 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء ہیں کہ اس کی ساری زندگی سے بہتر ہیں۔وہ ساری زندگی اس کے مقابل پر پیچ اور بے حقیقت ہے، اس کے قدموں پر قربان کرنے کے لائق بن جاتی ہے۔پس یہ دو مضامین متضاد نہیں ہیں بلکہ ایک ہی مضمون کے مختلف پہلو ہیں۔اب میں سکھ سے متعلق آپ کو بتاتا ہوں کہ سلام کیا چیز ہے سب سے پہلے و یا درکھیں کہ سلم اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، اس کا ایک اسم ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُوَ اللهُ الَّذِى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحْنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ) (الحشر :۲۴) تو سلام کی طرف سے ایک شریعت ملی ہے جس میں سلام کی تمام صفات ہونی چاہئیں یہ وہ مضمون ہے جسے لفظ سلام کے اوپر غور کرنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔دراصل انہی آیات کریمہ میں اس الله شریعت کا تعارف بھی فرما دیا گیا جومحمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہو رہی تھی اور اس کی تمام صفات کو ایک لفظ میں بیان فرما دیا سکھ۔چنانچہ سلام کے معانی کے تعلق میں Lane لکھتا ہے کہ: Salam signifies safety security or freedom from faults,defects,imperfections blameshes or vices۔لین جو معنی بیان کرتا ہے یہ مرہون منت ہے پرانے مفسرین کا اور بے تکلف ان سے یہ بھر پور استفادہ کرتا ہے اور بسا اوقات ذکر بھی کرتا ہے اس میں شرما تا نہیں کہ یہ فلاں مفسر نے معنے کئے ہیں ، یہ فلاں مفسر نے کئے ہیں۔اس سے میں اخذ کر رہا ہوں مگر اس کا یہ احسان ہے ہم پر کہ ہر قسم کے معنی اس نے اکٹھے کر دیئے ہیں۔تو اس کا ترجمہ یہ بنے گا کہ لفظ سلام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے یا اس بات کو سمیٹے ہوئے ہے اپنے اندر، اس کو Signify کرتا ہے، اس بات کا مظہر ہے، یوں کہہ لیں۔Safty ، حفاظت ہر قسم کی سیکیورٹی سیفٹی اندرونی بھی ہو سکتی ہے، بیرونی بھی۔سیفٹی حادثات سے تعلق میں بھی کہی جاسکتی ہے مگر سیکیورٹی میں غیر کے حملے کا مضمون بھی شامل ہو جاتا ہے کہ بیرونی حملوں سے بچانے کے لئے حادثات اور اتفاق سے گزند اٹھانے کے تعلق میں بھی سلام جو ہے وہ حفاظت کرتا ہے۔Immunity وہ جو Defence سسٹم ہے جس کو ہم Immunity سسٹم کہتے ہیں اس طرف