خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 145

خطبات طاہر جلد 14 145 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء فرشتہ کبھی نازل نہیں ہوگا اس معنے میں کوئی نقص نہیں بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا مضمون ہے کیونکہ اگر شریعت کا نزول پایہ تکمیل کو پہنچ جائے ، وہ کامل بھی ہو جائے اور محفوظ بھی ہو جائے اور سارے مضامین اپنے اندر سمیٹ لے تو اس کے بعد اگر شریعت کے نزول کے فرشتے نازل ہوں تو وہ خرابی پیدا کریں گے، کوئی اصلاح کا کام نہیں کر سکتے کیونکہ کامل کے اوپر کچھ اضافہ نہیں ہوسکتا۔پس اس وعدے کا جو قرآن کریم میں مکی زندگی میں آغاز ہی میں دیا گیا تھا آخری جواب ہمیں اس وقت ملتا ہے جب آنحضرت ﷺ پر شریعت مکمل ہوگئی اور آپ کے وصال کا وقت آ پہنچا۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ:4) آج وہ کام مکمل ہو گیا ہے ، آج وہ صبح اپنے صلى الله عروج کو پہنچ گئی ہے جسے ابھارنے کے لئے ، جسے ہویدا کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی سے پر 23 سال وحی نازل ہوئی۔یہ خوشخبری سن کر بہت سے صحابہ خوش ہوئے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم بعض صحابہ کی روتے روتے گھگھی بندھ گئی،داڑھیاں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔پوچھا گیا کہ یہ کیا بات ہے اتنی خوشخبری اور آپ روتے کیوں ہیں۔کہا تم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارے آقا کی جدائی کا دن آ رہا ہے۔جس غرض سے مبعوث فرمائے گئے تھے وہ صبح تو طلوع ہوگئی یعنی ہوتے ہوتے آخر اپنے انجام کو پہنچی۔اب محمد رسول اللہ ﷺ کا کام اس دنیا میں ختم ہوا ہے اب یہ رفیق اعلیٰ کی طرف چلے جائیں گے اور ہمیں محروم چھوڑ جائیں گے۔یہ دیکھیں لیلۃ القدر سے کیا مراد ہے اور فجر سے کیا مراد ہے اور اس فجر کے بعد فرشتے پھر بھی نازل ہوتے رہیں گے مگر شریعت کے فرشتے نہیں اور یہ مضمون قیامت تک جاری رہے گا۔پس اس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ دوسری جگہ یوں فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ ( حم سجدہ: 31 تا 33 ) رحِيمِ