خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد 14 144 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء جس نے تمام پہلے اندھیروں کو ایک ایک کر کے پکڑا اور اس کا منہ روشن کر دیا۔نور سے نہلائے گئے وہ اندھیرے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اندھیروں کی کوئی رمق، کوئی ان کا نشان بھی باقی نہ الله چھوڑا۔اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے زمانے میں نازل ہونے والی شریعت کی وحی یا قرآن کریم ہے اور وہ مفسرین جنہوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے بالکل درست کہا ہے کہ إِنَّا أَنْزَلْنَهُ " کی ضمیر قرآن کریم کی طرف جاتی ہے لیکن وہ اس مضمون کو بیان کر کے پھر آگے بڑھنے سے محروم رہ گئے یعنی گرم ہوئے ہاتھ لگایا لیکن پھر آگے دروازہ نہ کھول سکے۔اس بحث میں الجھ گئے کہ لیلۃ القدر کون سی رات تھی جب قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تھا۔کیا یہ مطلب ہے کہ پہلی رات میں ہی سب نازل ہو گیا۔وہ کہتے ہیں یہ تو نہیں ہوسکتا۔شاید یہ مراد ہو کہ آغاز ہوا ہے۔شاید یہ مراد ہو کہ ہر رمضان میں جب لیلتہ القدر آیا کرتی تھی تو حضرت جبرائیل قرآن کریم کو دہرایا کرتے تھے، شاید یہ مراد ہو کہ لیلۃ القدر کے مضمون کے تعلق میں یہ وحی نازل ہوئی ہے۔غرضیکہ بہت سے اشارے کئے ، بہت سی تفاصیل بیان کیں مگر مطلب کی بات پانے کے باوجود پھر اسے آگے نہ بڑھا سکے۔قرآن تو ہے مگر لیلۃ القدر سے کیا مراد ہے۔ایک رات نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی تمام زندگی کا وہ دور جس میں اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کا آغاز ہوا اور یہ کام اپنے پائیہ تکمیل کو پہنچا۔پس روح اور فرشتے جن کے اترنے کا ذکر ہے کہ فجر تک وہ ضرور اترتے رہیں گے۔اس میں یہ ایک ع پیشگوئی تھی کہ حضرت اقدس محمد مصطفی مے کو جس عظیم کام کے لئے ، ایک عظیم فرض کی ادائیگی کے لئے مبعوث فرمایا گیا ہے وہ آخری اور روشن تر شریعت کا نزول ہے اور جب تک یہ کمل نہیں ہو جاتا لازما جبرائیل اور فرشتے مسلسل اترتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ صبح پوری طرح روشن ہو جائے۔اس سے مراد یہ بھی بنتی ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی حفاظت کا بھی اعلان ہے۔آپ نے صبح پیدا کرنی ہے جو شریعت کی صبح ہے۔پس شریعت سے تعلق رکھنے والے فرشتے تو اس کے بعد پھر نہیں اتریں گے اور اس مضمون میں کوئی سقم نہیں۔پس وہ مفسرین جو حتٰی کے معاملے میں الجھ گئے اور ڈھونڈنے لگے کہ کیسے اس نقص سے ہم بچیں کہ فرشتے صبح ہوئی تو بھاگ گئے اور چھوڑ گئے۔مگر یہ شریعت کی دائمی صبح کی بات ہے۔وہ شریعت جو محمد رسول اللہ اللہ سے خاص تھی اور آپ پر یہ کام اتمام کو پہنچا اور تکمیل کو پہنچا تو پھر اس کے بعد شریعت کی وحی نازل کرنے والا