خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 143

خطبات طاہر جلد 14 143 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء انْزَلْن میں کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے اور جب یہ کہتے ہیں تو ایک اور بحث کا آغاز ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تو ایک رات میں نہیں اتارا گیا اور لمبے عرصۂ نبوت پر پھیلا ہوا ہے تو اسے ایک رات میں اترنے والا کلام کیسے کہہ سکتے ہیں۔پس اس کی بہت سی تشریحات بیان ہوئی ہیں جو میں پہلے بھی اپنے ان خطبات میں بیان کر چکا ہوں جولیلۃ القدر سے تعلق رکھتے تھے۔آج ایک نیا مضمون اس حوالے سے آپ کے سامنے بیان کروں گا کہ هِيَ حَتَّى مطلع الفجرِ سے کیا مراد ہے۔یعنی اول تو وہ رات کون کی ہے اور پھر هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ سے کیا مراد ہوئی کیونکہ مطلعِ الْفَجْرِ تک نزول ہوتا ہے اس کے بعد ختم ہو جاتا ہے یہ تصور ابھرتا ہے۔اس پر کئی مفسرین نے زور مارا ہے اور حتٰی کے معنی کھینچ کر سحر میں بھی داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر یہ جو طرز کلام ہے یہ تو یہ بتا رہا ہے کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو فرشتوں کا نزول بند۔تو اچھی صبح آئی ہے جو رات سے بدتر ہے۔رات تو ساری رات فرشتے اترتے رہے اور نزول ہوا ہے جبرائیل کا بھی بار بار۔لیکن صبح آئی تو سارے غائب ہو گئے تو یہ کیا قصہ ہے؟ اس لئے ضروری ہے کہ رات کا وہ مفہوم سمجھا جائے جس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی عارفانہ روشنی ڈالی ہے اور جس سے اس رات کی حقیقت سمجھنے میں بہت سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ رات جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے بعض پہلوؤں سے ایک رات بھی کہلا سکتی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عارفانہ نکات ہمارے سامنے کھولے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ رات دراصل تمام زمانہ نبوی پر محیط ہے اور اس پہلو سے ان آیات کا معنی یہ بنے گا کہ رات کے دو پہلو ہیں ایک وہ جبکہ وہ اندھیرے، جب ظلمات ، طرح طرح کے خطرات انسانیت کو گھیر لیتے ہیں اور گناہ جو ہیں وہ کھل کھیلتے ہیں اور نیکیاں سو جاتی ہیں۔جب ایسی گناہوں کی رات بھیگ جاتی ہے تو اس کی کوکھ سے پھر وہ صبح کا عمل جاری ہوتا ہے جو اچانک یکدم صبح میں تبدیل نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کے اپنے آخری مقام اور منزل کو پہنچنے کے درمیان بہت سی ایسی ذیلی منازل ہیں جنہیں طے کرنا پڑتا ہے پھر وہ مضمون آخر اس آخری مقام تک پہنچ جاتا ہے جبکہ وہ صبح جو اس رات کے جواب میں ہدایت کی صبح ہے وہ طلوع ہو جائے۔اسی نقطہ نگاہ سے آنحضرت می ﷺ کی لیلۃ القدر محض ایک رات نہیں بلکہ سارا زمانہ نبوی ہے