خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 132
خطبات طاہر جلد 14 132 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء کی گہرائی میں جا کر سمجھا نا لا زم ہے ورنہ ایک غلط تصور پیدا ہوسکتا ہے اور اگر کوئی اعتراض کرے تو پھر اس اعتراض کا جواب نہیں آئے گا۔پس اس طرح کوشش کر کے جو میں ترجمہ سمجھا رہا ہوں اس کا بھی ترجمہ ضروری ہے۔پہلے خیال تھا کہ عربوں کے لئے قرآن کریم کے ترجمے کی کیا ضرورت ہے۔واقعہ یہ ہے کہ عربوں کا ایک بڑا حصہ ہے جن کو قرآن کریم کا صحیح ترجمہ نہیں آتا۔دارجہ زبان ہے جو فصحہ کلام ہے اس سے اکثر کو واقفیت نہیں اور قرآن کے ترجمے میں صرف ترجمے کی بات نہیں ، ترجمہ سمجھانے کا موقع بھی ہے۔بہت سے ایسے تاریخی واقعات ہیں مثلاً وہ فَاذْرَتُهُ فِيهَا (البقره: 73) والی آیت جس میں قتل ہوا اور تم لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا اب وہاں خالی ترجمہ پیش کر دیں تو کسی کے پہلے کیا پڑے گا۔سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ واقعہ تھا یہ ترجمہ ہے فلاں ترجمہ غلط ہے یہ درست ہے اور اس مضمون کو سمجھو۔تو یہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے توفیق مل رہی ہے جماعت کو کہ قرآن کریم کا ترجمہ آسان انداز میں دنیا میں جاری کرے اس کا آگے استفادہ تبھی جماعتیں کر سکتی ہیں اگر ان زبانوں میں یہ ترجمے پیش کئے جائیں تو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔اب یہ سارا خلاصہ تو میں پیش نہیں کر سکتا صرف اتنا عرض کروں گا کہ جرمنی میں اگر اچھا کام ہوا ہے تو صرف ٹرکش زبان میں ہوا ہے کیونکہ وہاں ایک ٹرکش مبلغ کے سپر دوہ کام کیا گیا تھا انہوں نے اپنے حصے کا کام اللہ کے فضل سے خطبات میں بہت محنت کی ہے اور بھی کام ان کے سپر دہم کر رہے ہیں مگر اس طرح بات نہیں بنے گی۔ہر جماعت کے امیر کو مجلس عاملہ کا اجلاس بلانا چاہئے اس خطبے کی روشنی میں جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینا چاہئے اور ایک ایک مضمون کی ایک ٹیم اب کافی نہیں رہی اب وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ایک ایک کام میں زیادہ ٹیمیں بنا ئیں آپ۔اب بنگلہ دیش کی اس بات پہ میں مثال دیتا ہوں۔اب وہ ان سب کاموں پر اگر وہ ایک ایک ٹیم بنا کر تسلی کر لیں تو وقت سے ہمیشہ پیچھے رہیں گے۔اب بعض مربی ہیں ان کے سپرد یہ کام کریں ایک کے سپر د دویا تین ٹیمیں ہوں اور بیک وقت وہ تینوں ٹیمیں اس مربی کی نگرانی میں کام کریں تو اس طرح کام تین گنا رفتار سے بڑھے گا تو پھر بمشکل اس مقام کو پہنچیں گے۔جہاں ہم آگے نکل چکے ہیں اس وقت۔اب پینتالیس سبق کسی میں ساٹھ سبق کسی میں اس سے بھی زیادہ۔اب ان کو پکڑنا ہے آپ نے اور ساتھ ساتھ تازہ تازہ کا بھی