خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد 14 131 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء رہی ہو۔تو اس کے لئے ایک دو ٹیمیں بنالیں تو سب کام آسان ہو جائے گا لیکن چونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے ابھی رمضان کے فورا بعد ہم نے یہ پروگرام شروع کر دینے ہیں اور جہاں جہاں خلا آئے گاوہاں اس جماعت کی ذمہ داری ہو جائے گی۔اس وقت اعلان کر دیں گے کہ یہ ہم انتظار کر رہے ہیں۔پین سے بھی ٹیپ نہیں پہنچی، فلاں جگہ سے نہیں پہنچی اس لئے ہم کیا کر سکتے ہیں تو خلا کی ذمہ داریاں اب آپ سب کے او پر لیکن اب زیادہ انتظار نہیں ہوسکتا۔بیک وقت جتنی Tapes بھی مہیا ہوں گی ان کو رمضان کے معا بعد انشاء اللہ جاری پروگرام کی صورت میں چلا دیا جائے گا۔اور دوسری ذمہ داری آپ لوگوں کی یہ ہے جو سن رہے ہیں کہ ہر ملک میں ان سب زبانوں کی ٹیپ ریکارڈنگ کا انتظام ہونا چاہئے اور ان سب پروگراموں کی ٹیپ ریکارڈنگ کا انتظام ہونا چاہئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض ممالک میں ڈش انٹینا کی سہولت ہی بہت تھوڑی ہے اور بڑا حصہ جماعت کا ایسا ہے جہاں ابھی تک ڈش انٹینا کے ذریعہ وہ اس عالمی وحدت کی لڑی میں پروئے نہیں جاسکے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہاں ویڈیوز کے ذریعہ پھر آگے ان تک یہ فیض پہنچائے جائیں اور ویڈیو کے ذریعے جو معمولی ضرورتیں ہیں وہ تو اللہ کے فضل سے اس زمانے میں ہر جماعت کی توفیق کے اندر ہیں وہ مہیا کریں اور زائد خرچ ہم ادا کریں گے۔انشاء اللہ تو ان چیزوں کو ریکارڈ کریں اور پوری لائبریری اس کی بنا ئیں پھر تنظیم کے ساتھ ترتیب اور سلیقے کے ساتھ ان کا فیض ان سب جماعتوں تک پہنچانے کی کوشش کریں جہاں ڈش کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا بلکہ وہاں بھی جہاں ڈش کے ذریعے پہنچ سکتا ہے کیونکہ بسا اوقات لوگ با قاعدگی کے ساتھ پروگرام نہیں دیکھ رہے ہوتے اور بعض ڈش کے انتظام ایسے ہیں آج ایک پارٹی نے آکے دیکھا ہے کل ایک اور پارٹی آئے گی اور وہ دیکھ رہی ہوگی۔تو جو جاری تربیت کے پروگرام ہیں ان میں قرآن کریم کی کلاس ہے اس میں جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے کوشش کر رہا ہوں کہ ترجمہ ایسا کیا جائے جو ساتھ ساتھ سمجھ آرہا ہو یعنی ترجمہ تو لکھا ہوا بھی ہوتا ہے لوگ پڑھ جاتے ہیں لیکن کلاس میں جب آپ دیکھیں گے تو اکثر کھڑے ہو کر جہاں میں نے پوچھا ہے کہ ترجمہ سن لیا؟ ہاں جی اب سن لیا۔کیا مطلب ہے؟ مطلب نہیں آتا تو اس ترجمے کا کیا فائدہ جس کا مطلب نہیں آتا۔وہ تفسیر نہیں ہے بلکہ ترجمہ سمجھانا بھی ضروری ہے اور قرآن کریم میں تو بکثرت ایسے مقامات ہیں جہاں ترجمے کو ٹھہر کر اس