خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد 14 102 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء ایسے نقش ہو جاتے ہیں کہ انسان کو مدتوں صحیح لفظ سنتے ہوئے بھی پتا نہیں چلتا کہ میں کیا کہ رہا ہوں اور یہ سلسلہ صرف انگریزی میں نہیں اردو میں بھی ہر دوسری زبان میں جاری وساری ہے۔کئی دفعہ عرب جو بہتر عربی جانتے ہیں وہ کوئی لفظ غلط تلفظ سے بولتے ہیں ان کی اصلاح کرتا ہوں لیکن یہ مطلب نہیں کہ میں ان پر فائق ہوں۔عربی زبان کے علم میں وہ فائق ہیں مر یہ علم کا مضمون ایسا ہے جو دوطرفہ چلتا ہی رہتا ہے کبھی استاد معلم کبھی شاگرد معلم۔ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور اس طرح یہ ایک ایسا مضمون ہے جو ہمیشہ ہر عالم کو معلم بھی بناتا ہے اور متعلم بھی بناتا ہے۔تو" Conspiracy" لفظ ہے وہ اس لئے غلط ہے کہ تلفظ میں دو حصوں میں سے یا تین حصوں میں سے جس پر زور ہو اس کے Volves نمایاں بیان کئے جاتے ہیں جس پر زور نہ ہو اس کے Volves کچھ مٹ جاتے ہیں تو چونکہ (con) پر زور نہیں ہے اس لئے گن پڑھا جاتا ہے۔اور یہ انگریزی کا جو طریق ہے یہ ساری زبان پر حاوی ہے اور ضربین یعنی ضربیں ہوتی ہیں جس کو Syllables کہتے ہیں ہم یعنی لفظوں کے وہ ٹکڑے جو ایک والو کے ساتھ متعلق ہو کے ایک آواز پیدا کرتے ہیں کا ،نا، وا، یہ ضر ہیں ہیں تو وہاں سپریسی یہ نشان پڑا ہوا ہے زور کا لغت میں ، جس طرح سپرٹ کہتے ہیں ہم اس طرح سپر میسی کہتے ہیں۔تو جب سپر یہی کہیں گے تو پھر گن نہیں کہہ سکتے پھر Consipiracy تو یہ میں آپ کو ضمناً بتارہا ہوں کہ یہ انگریزی زبان کا تلفظ کا ایک طریق ہے مگر ہمارے ہاں تو روز مرہ یہ سلسلہ چل رہا ہے۔میرے ساتھ ریسرچ گروپ والے یہاں کے تعلیم یافتہ یہاں کے جمے پلے بچے اور بچیاں بیٹھتے ہیں کلاس میں کبھی میں ان کی تفصیح کرتا ہوں کبھی وہ میری تصحیح کرتے ہیں پھر ہم ڈکشنریاں دیکھتے ہیں اور بڑا لطف آتا ہے۔جس کی تصحیح ہورہی ہو وہ بھی لطف اٹھاتا ہے جو صحیح کرتا ہے اس کو بھی ایک مزہ آرہا ہوتا ہے تو معذرتوں کی ضرورت نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ اسلوب سکھلا دیا ہے اور اس سے باہر کوئی شخص نہیں ہے کہ علم سیکھنا تمہاری ذمہ داری ہے اور جو علم کی بات تمہیں بتا تا ہے اس پر غصہ نہیں کرنا۔اس کے ساتھ بجز کا سلوک کرو، انکساری سے بات کرو، ہاں ہاں جزاک اللہ آپ نے ٹھیک کر دیا اور ساتھ ہی یہ یا درکھو کہ حکمت کی بات تو تمہاری لونڈی ہے تمہارے گھر کی چیز ہے ویسے بھی شرمندگی کی کوئی بات نہیں تمہیں اس پر ایسا حق ہے جیسے خدا نے تمہیں دے دیا ہے پھر کہیں سے ملے اسے قبول کرو۔