خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد 14 101 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء ہے اور ساتھ یہ فرمایا کہ جہاں کہیں بھی حکمت ملے، بتانے والا اگر حقیر بھی دکھائی دے، غیر بھی دکھائی دے، دشمن بھی ہو تو حکمت تمہاری چیز ہے اسے قبول کرو۔بعض لوگ کہتے ہیں جی فلاں سے یہ بات آئی ہے ہم نہیں لیتے اور چھوٹے آدمی نے بات کر دی ہے تو وہ برا مناتے ہیں۔علم کے حصول میں اور حکمت کے حصول میں برا منانے کا مضمون داخل ہی نہیں ہے۔یہ وہ ڈکشنری ہے جس میں یہ لفظ نہیں ملتا۔علم بھی اور حکمت بھی۔مومن کی ساری زندگی کا ایک پیشہ ہے اس کا یا زندگی کا ایک اٹوٹ انگ ہے ، زندگی کے اجزا میں داخل ہے اس لئے کسی لمحہ بھی وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتا اور یہ خیال کہ کسی زمانے میں ہم طالب علم تھے اب ہم عالم بن گئے ہیں اور معلم بن گئے ہیں اس خیال کو یہ تمام احادیث باطل قرار دے رہی ہیں جو ہر مومن کو متعلم کے طور پر پیش کر رہی ہیں اور متعلم بناتی ہیں اور پھر معلم بناتی ہیں تو گویا آنحضرت ﷺ کے نزدیک مومن کا علم کے حصول کا سفر آخری لمحے تک جاری ہے کیونکہ اگر آخری لمحہ بھی اس کا مومن ہونے کا لمحہ ہے اور اس کے بغیر اس کا سارا ایمان ضائع جائے گا تو وہ بھی حصول علم کا ہی ایک لمحہ ہے۔پس علم سے کسی وقت بھی مومن کو اس طرح چھٹکارا نہیں ہوسکتا کہ میں اب عالم بن گیا ہوں بالکل بے وقوفوں والی بات ہے۔مجھے بار ہا یہ تجربہ ہوتا ہے بعض غلطیاں ہوتی ہیں اردو کے تلفظ میں بھی انگریزی کے تلفظ میں بھی۔بعض الفاظ میں بعض دفعہ قرآن کریم کی تلاوت میں زیر زبر کی غلطی ہو جاتی ہے۔تو بعض احمدی بڑی معذرت سے لکھتے ہیں اور جب وہ معذرت شروع ہوتی ہے مجھے سمجھ آجاتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے حالانکہ معذرت کا کیا سوال وہ تو محسن ہے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کی عزت کرو۔تو معذرت کیسی ؟ ایک طرف احسان کرتے ہو دوسری طرف معذرتیں۔حقیقت یہ ہے کہ علم سیکھنے کا دور ایک دائمی دور ہے۔ابھی چند دن ہوئے جرمنی سے ایک عزیزہ محمودہ بیگم نے خط لکھا اور بڑی معذرتیں تھیں، میں سمجھ گیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے آگے۔بات اتنی سی تھی کہ آپ کو تلفظ کی صحیح ادائیگی کا شوق ہے میں جانتی ہوں مگر آپ نے ” کا نپر میسی لفظ بولا تھا ایک جگہ تو یہ درست نہیں ہے۔یہ لفظ " Conspiracy" ہے تو یہ درست ہے ان کی بات ، مگر بعض دفعہ غلط تعلیم اگر بچپن میں ہوئی ہو تو وہ