خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 103
خطبات طاہر جلد 14 103 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء اور اسی ضمن میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ در حقیقت اس خط کے بعد جب میں نے اپنے گزشتہ حالات پر غور کیا تو مجھے پتا چلا یعنی پتا تو پہلے ہی تھا لیکن نمایاں طور پر یہ بات ایسی سامنے آئی جو میں نے کہا میں آپ کو بھی بتاؤں کہ جو میر اطالب علمی کا زمانہ تھا وہ تو دراصل طالب علمی کا زمانہ تھا ہی نہیں وہ تو سیر و تفریح اور اپنی مرضی کی کتابیں پڑھنا اور اپنے شوق پورے کرنے کا زمانہ تھا۔سکول تو ایک مصیبت تھی۔میرا تو طالب علمی کا زمانہ سکول سے فارغ ہونے کے بعد یا کالج سے فارغ ہونے کے بعد شروع ہوا ہے اور اصل طالب علم میں خلیفہ بننے کے بعد بنا ہوں۔ساری جماعت اللہ کے فضل سے میری معلم ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وسیلے مجھے عطا فرمائے اور میں جو ان کو دیتا ہوں آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق علم حاصل کرتا ہوں اور علم دیتا ہوں دونوں طرف برابر کا رشتہ ہے۔سوائے ان باتوں کے جو خدا خاص طور پر سکھلاتا ہے وہ ایک الگ مضمون ہے جس میں بندے کا بیچ میں دخل نہیں ہوتا غیب سے اللہ تعالیٰ مضامین عطا فرماتا ہے ، دلوں میں ڈالتا ہے اور اس قوت کے ساتھ وہ مضامین نازل ہوتے ہیں کہ اس میں کسی انسانی تعلیم کا، اس کی کوشش کا یا طالب علم کے اپنے کسی علمی نور کا دخل نہیں ہوتا تو اس کے سوا جور روز مرہ کے دستور ہیں ان میں کوئی انسان بھی علم سیکھنے سے بالا نہیں ہے۔اور جہاں تک دنیاوی علوم کا تعلق ہے ایک موقع پر آنحضرت ﷺ کے متعلق قطعی کی پختہ روایت ہے کہ کھجور لگانے والوں کی ایک غلطی آپ نے دیکھی۔ایک دفعہ میں نے غلطی سے کہا تھا کہ پنیری ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے۔وہ یہ غلطی نہیں تھی کچھ اور تھی مجھے بعد میں بتایا گیا مگر لگانے والوں کو آپ نے دیکھا کہ شاید وہ غلط کر رہے ہیں اور اس پر ان کو سمجھایا کہ کیا ضرورت ہے اس کو چھیڑنے کی اس کو یونہی رہنے دو اور وہ چونکہ قریب قریب درخت تھے وہ فصل مرگئی بعد میں حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے تو فرمایا تھا اور ہم نے آپ کے علم اور بات کے تقدس میں ویسا ہی کیا اور ہمارے سارے درخت ضائع ہو گئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے دین سکھانے کے لئے بھیجا ہے، ایگریکلچر سکھانے کے لئے تو نہیں بھیجا کہ زراعت سکھاؤں تم لوگوں کو لیکن اس کے با وجود یہ تو رسول اللہ اللہ کے انکسار کا ایک عجیب عظیم الشان مظہر تھا لیکن آپ نے تو ہمیں سب کچھ سکھایا ہے۔خدا گواہ ہے اپنی ساری زندگی پر نظر ڈالتا ہوں قدم قدم پر ہر علم میں ہر معاملے میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی محتا جی محسوس ہوتی ہے۔کون سا علم ہے جو نہیں سکھایا۔کھانے پینے کے آداب تک