خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد 14 100 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء جماعت میں ایسے بہت سے درس قائم ہو چکے ہیں، عورتیں بھی اور مرد بھی قطعاً معاوضہ نہیں لیتے اور اسی روح کو بہت زیادہ ترقی دینے کی ضرورت ہے اور مزید رائج کرنے کی ضرورت ہے۔مگر وہ اساتذہ جو استاد کے طور پر نو کر ہوں اگر قرآن پڑھانا ہی ان کے فرائض میں ہے تو وہ روپیہ حرام نہیں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قرآن کی آیات بیچتے ہیں۔اس کا دراصل اور مفہوم ہے مگر ضمناً اس مضمون کو اگر زیادہ آگے بڑھایا جائے تو یہ بھی اس سے شائستہ تعلیم ہمیں ملتی ہے کہ قرآن کریم کو محض قرآن پڑھانے کی محبت میں پڑھاؤ، نہ کہ کوئی ذاتی منفعت اس سے وابستہ کر دو۔حضرت ابو ہریرہ کی ایک اور حدیث ہے جو ابن ماجہ سے لی گئی ہے۔عن ابي هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال الله كلمته الحكمته ضالته المومن حيثما وجدها فهوا حق بها ابن ماجه ابواب الزاهد باب الحكمته) کہ مومن کے نزدیک ، مومن کا طرز عمل علم کی طرف یہ ہے اور وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ میں علم کے ساتھ حکمت کو جو باندھا گیا ہے اس تعلق میں یہ حکمت والی حدیث میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔كلمته الحكمته ضالته المومن حکمت کی بات تو مومن کو یوں لگتا ہے کہ میری ہی گمشدہ چیز تھی۔جیسے گمشدہ اونٹنی کسی کی مل جائے تو کوئی دینے والا ، کوئی دکھانے والا اس لینے والے کی راہ میں اور اونٹنی کی راہ میں حائل نہیں ہوا کرتا۔کوئی مالک یہ سوچ کر شرم محسوس نہیں کرتا کہ میری اونٹنی گی ہوئی تھی فلاں بدو نے دکھائی ہے اس لئے میں نہیں لوں گا وہ اپنا مال سمجھ کے لیتا ہے۔پس حکمت تو مومن کی شان ہے یہ بہت ہی پیارا کلام ہے اور مومنوں کو ایک عظیم خراج ہے ان کی صفات حسنہ کا یعنی محمد رسول اللہ اپنے غلاموں سے توقع رکھتے ہیں کہ جیسا مجھے علم وحکمت سکھانے پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور فرمایا گیا ہے تم لوگ حکمت کی ایسی قدر کرنے والے ہو یا خدا کے نزدیک تمہارا یہ مقام ہے کہ حکمت کی ایسی قدر کرو کہ گویا وہ تمہارے گھر کی چیز تھی اور جہاں بھی دکھائی دے اسے قبول کرو۔بہت ہی گہرا مضمون ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ایک طرف تو مومنوں کے رجحان کے اوپر اس سے بہتر تعریفی کلمات نہیں ہو سکتے تھے کہ حکمت تو ان کی اپنی چیز ہے انہی کو حکمت کی باتیں کرنی چاہئیں، انہی کو حکمت سونپی گئی ہے ان کو آج زمانے میں حکمت کا مالک بنایا گیا