خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 957 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 957

خطبات طاہر جلد 13 957 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1994ء جانتا ہے کہ جو پروگرام بنیں گے ان کی ابتدائی حالت کیا ہوگی مگر اس وقت تو مجھے یہ جلدی ہے کہ بنیں سہی۔چاہے ناقص بنیں مگر جلد از جلد ٹیلی ویژن کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیں کہ ایک پروگرام کے ساتھ سات مزید زبانیں سکھائی جارہی ہیں یا سات مزید زبانوں میں دوسرے علوم عطا کئے جارہے ہیں۔یہ پہلے کبھی نہیں ہوا آج تک دنیا کی انتہائی ترقی کے باوجود کسی کو یہ توفیق نہیں ملی۔پس اپنی غربت کے باوجود جماعت احمد یہ اس ٹیلی ویژن کے قافلے میں بہت آگے قدم رکھ چکی ہے لیکن غریبانہ قدم ہے اس میں کوئی شک نہیں۔جب امریکہ کو یہ کہا گیا کہ آپ جو ہمیں سٹیشن بنا کے دے رہے ہیں یعنی امریکہ سے مراد وہ کمپنی جس سے ہم نے سودا کیا تھا اس میں سات اور زبانوں کی سہولت آپ نے رکھنی ہے تو ان کے ماہرین حیران رہ گئے کہ تم کیا کہہ رہے ہو یہ ہو کیسے سکتا ہے۔اتنا بڑا امریکہ ہے یہاں کسی کو توفیق نہیں ملی کہ سارے چینلز بھر دیں ، انہوں نے کہا آپ یہ کیا سوچ رہے ہیں ہم تو دیوانے اور قسم کے لوگ ہیں۔آپ اس بات کو چھوڑ دیں کہ کیوں سوچ رہے ہیں۔یہ ہوگا انشاء اللہ اور ہو کے رہے گا۔ہم نے جو چینلز یعنی جو دیگر راہیں مختلف زبانیں استعمال کرنے کی میسر ہوتی ہیں وہ سب استعمال کرنی ہیں انشاء اللہ۔تو زبانوں میں تو یہ کام کافی حد تک آگے بڑھا ہے اور جب یہ سلسلہ شروع ہوگا تو پھر ہم اس کو بار بار دہرانا بھی شروع کریں گے تاکہ سننے والوں کے لئے دقت نہ ہو کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی اب میں واپس جاؤں۔اب بیچارہ واپس کیسے جا سکتا ہے۔ہر ایک کے پاس تو ریکارڈنگ کا انتظام نہیں ہے۔تو ہم دہرائیں گے اور اتنی دفعہ دہرائیں گے بعد میں کہ جن کے پاس وہ ویڈیوریکارڈنگ کا انتظام نہیں ہے وہ بھی اطمینان سے بیٹھے رہیں ان کو ضرور انشاء اللہ آخر کا رزبان کا گہرا مفہوم سمجھ آجائے گا اور محاورے جو شروع میں سمجھ نہیں آتے وہ دو چار دفعہ سننے کے بعد جو ذہن پر نقش ہور ہے ہیں وہ ابھرتے ابھرتے جب سطح پر آتے ہیں تو انسان سمجھتا ہے ایک دم مجھے بولنا آ گیا ہے حالانکہ وہ اس کی تہیں بٹھائی جارہی ہوتی ہیں۔اس سارے پروگرام کا مقصد یہی ہے کہ بچے کے ذہن پر جس طرح نہیں جمائی جاتی ہیں، نقوش جمائے جاتے ہیں۔ہر کوشش کے وقت بچے کو کچھ سمجھ نہیں آرہی ہوتی لگتا یہ ہے کہ اس کے پہلے کچھ نہیں پڑا لیکن وہ جب جنہیں جمتی ہیں ایک خاص اونچائی پر جب پہنچتی ہیں تو وہ سطح کا نشس ذہن یعنی باشعور ذہن کے حصے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ جو سب کانشنس میں تیاری ہو رہی تھی لاشعوری