خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 948 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 948

خطبات طاہر جلد 13 948 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1994ء بہت سے گاہک موجود تھے اور بعض ہندوستانی کمپنیاں تو بہت بڑی بڑی قیمتیں دے کر اس سیارے پر آنا چاہتی تھیں کیونکہ ان کے علم کے مطابق بھی یہی اس علاقے کے لئے بہترین تھا۔اگر ہم چوبیں گھنٹے کا لیتے تو فی گھنٹہ کے حساب سے کچھ کم ملتا لیکن بہت بڑا وقت ہمارے ہاتھ سے ضائع ہو جاتا اور ہمارے کام نہ آتا۔تو بہت گفت و شنید کے بعد بارہ گھنٹے والا وقت ہمیں میسر آیا اس سے کم ممکن نہیں تھا کیونکہ اگر کم کرتے بھی تو فی گھنٹہ قیمت بہت بڑھ جاتی اور پھر دوسری کمپنیاں بیچ میں داخل ہو جاتیں اور اس کے نتیجے میں پھر ہر وقت رسہ کشی جاری رہنی تھی اور جو زیادہ پیسے دیتا وہ وقت پہ قبضہ کر سکتا تھا۔ہندوستان کی کمپنیوں کو اس لئے موقع نہیں مل سکا کہ وہ جس رفتار پہ ، جس طریقے سے پیسہ دینا چاہتی تھیں وہ یورپین کمپنیوں کو منظور نہیں تھا۔تو باوجود مقابلے کے اور ان کے بہت زیادہ پیسے دینے کے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے نام لکھوا دیا لیکن بارہ گھنٹے سے کم اگر خرید تے تو کمپنیوں کو ہم میں دلچسپی نہ رہتی۔یہ مجبوریاں تھیں جن کے پیش نظر یہ اہم فیصلہ کیا گیا اور جب بارہ گھنٹے ملے تو انہیں بھرنا تھا بہر حال کسی طریقے سے۔تو زیادہ تر پرانے ہمارے جو پروگرام ہیں ان سے ہی استفادہ ہوتا رہا کیونکہ نئے پروگرام بنانا ایک بہت ہی مشکل کام ہے اور اس کے لئے جتنا روپیہ چاہئے جتنی علمی اور تجرباتی ضرورت ہے ، اکثر جگہ اس کا فقدان ہے۔پس بعض دفعہ اتنے پرانے پروگرام بار بار دکھائے گئے کہ بعض لوگوں نے اس پر لکھا بھی کہ یہ تو پھر بہت زیادہ ہی پروگرام آرہے ہیں آپ کے کبھی سفید داڑھی والے کبھی کالی داڑھی والے۔صرف تنوع اتنا ہی رہ گیا ہے کہ کالی داڑھی کے بعد سفید داڑھی آجاتی ہے، سفید کے بعد کالی آجاتی ہے تو ان کو میں نے کہا کہ آپ ایک رنگ کی داڑھی والے پروگرام بنا کے بھیج دیں، میں وہ چلوا دوں گا۔ہیں ہی نہیں تو ہم کریں کیا اور جو پروگرام بنا کر شروع میں بھجوائے گئے وہ بہت ہی بچگانہ تھے اور ان میں نہ صرف یہ کہ جماعت کو دلچسپی نہیں ہوئی تھی بلکہ بعض جگہ رد عمل ہو سکتا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے بعضوں نے اپنے اور اپنے بچوں کو دکھانے کے لئے پروگرام بنائے ہیں اور مطالبے تھے کہ ضرور دکھاؤ۔تو وہ پروگرام جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں اگر چہ تنوع نہ ہونے کی وجہ سے ایک قسم کا ضرورت سے زیادہ تسلسل ایک ہی بات کا پایا جا تا تھا لیکن ہر پروگرام اپنی ذات میں تعلیمی اور دینی اور روحانی امور میں جماعت کے لئے مفید ضرور تھا اور بہت سے ایسے تھے جو پہلے جماعت نے نہیں دیکھے ہوئے تھے۔بعض لوگوں کو تکرار دکھائی دیتی تھی لیکن