خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 949 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 949

خطبات طاہر جلد 13 949 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1994ء بعضوں کے لئے بالکل نئے تھے کیونکہ اس سے پہلے جو ویڈیو کا نظام تھا وہ بہت کم لوگوں کو دستیاب ہوا ہے۔جماعت کی بھاری اکثریت اتنی غریب ہے کہ وہ ویڈیو اپنے گھروں میں رکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتی۔لیکن یہ جو عالمی ٹیلی ویژن کا نظام ہے اس میں اگر چہ امیر گھروں کو سہولت ہوگی کہ گھر میں بیٹھ کے دیکھ سکیں مگر جماعت کی طرف سے وسیع پیمانے پر انتظام کرائے گئے کہ ایسے مراکز ہو جائیں کہ جہاں ہر شخص پہنچ کر ان سے استفادہ کر سکے۔بہر حال یہ ایک بے سروسامانی کا آغاز تھا ، شروع ہو گیا اللہ کے فضل سے اور رفتہ رفتہ تجربے بھی ہوئے ، کچھ پروگرام بنانے کے بھی سلیقے لوگوں نے سیکھے اور دن بدن کچھ نہ کچھ بہتری ضرور ہوتی رہی۔اب تقریباً ایک سال گزر رہا ہے اور اس سال کے دوران جتنی تبدیلیاں پروگرام میں میں چاہتا تھا وہ اس لئے پیدا نہیں ہو سکیں کہ ہمارے پاس طوعی ایسے کام کرنے والے میسر نہیں جوفن بھی جانتے ہوں۔طوعی کام کرنے والے تو بے شمار ہیں ، اللہ کے فضل کے ساتھ ایک آواز دو تو بیسیوں گنا زیادہ دوست خدمات پیش کر دیتے ہیں لیکن ایک فن کا کام ہے اس کے لیے مہارت بھی چاہئے ، کچھ ذہنی صلاحیتیں بھی ایسی چاہئیں، کچھ ذوق کے بھی تقاضے ہیں وہ پورا کرنے کے لئے اللہ کی طرف سے وہ ذوق فطرت میں ودیعت ہی نہ ہوں تو محض علم سے بھی کام نہیں چلتا۔پھر دینی علم کی بھی ضرورت ہے، دوسرے علوم کی بھی ضرورت ہے اور پھر تھوڑے پیسے میں اچھی چیز پیدا کرنا یہ خود ایک صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔تو یہ سارے مختلف محرکات اور موجبات ایسے رہے کہ جن کی وجہ سے جس رفتار سے میں چاہتا تھا کہ جماعت کے سامنے بہتر سے بہتر پروگرام پیش کیے جاسکیں وہ نہیں ہوسکا۔اس کے علاوہ اس سال کے دوران میں بعض جماعتوں کی طرف سے بار بار اپنی محرومی کی شکایت ہوئی مثلاً آسٹریلیا کی طرف سے بہت سے احمدی لکھتے رہے ، دور دراز کے جزائر منجی ہیں، نیوزی لینڈ وغیرہ وہاں سے بھی توجہ دلائی جاتی رہی کہ ہمیں کب شامل کریں گے تو ان کو بھی شامل کرنا تھا چنانچہ اس سال اللہ کے فضل سے ان کو بھی شامل کیا گیا۔پھر امریکہ اور کینیڈا کا تقاضا تھا یعنی بحیثیت جماعت تو کینیڈا کا تھا لیکن انفرادی لحاظ سے امریکہ سے بھی بہت تقاضے آتے رہے کہ ہمارے لئے بھی روزانہ کا پروگرام بنایا جائے۔افریقہ کے لئے بھی زیادہ وقت کے پروگرام کی ضرورت تھی۔تو اس سال بہت بڑی توجہ پروگرام کو بڑھانے پر رہی اور اب خدا کے فضل کے ساتھ آج